پی ایم پیکیج ملازم کشمیری پنڈت راہل بھٹ کی ہلاکت کے خلاف وادی کشمیر سمیت جموں میں بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ Rahul Bhat Killingسرینگر سمیت بانڈی پورہ اور ضلع اننت ناگ میں کشمیری پنڈتوں نے راہل بھٹ کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ Several Kashmiri Pandits Shave Headsدرجنوں کشمیری پنڈتوں نے مقتول راہل بھٹ کو خراج عقیدت اور انکے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سر کے بال منڈوا لیے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری پنڈت نے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’ہندو مذہب کی روایت کے مطابق دسویں روز فوت ہوئے شخص کا فرزند اپنے سر کے بال منڈواتا ہے، چونکہ راہل کا کوئی فرزند نہیں تھا اس وجہ سے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے قریب چالیس کشمیری پنڈتوں نے رضاکارانہ طور سر کے بال منڈوائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سر کے بال منڈوانے سے ہندو دھرم کی روایات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کشمیری پنڈتوں نے راہل بھٹ کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا بھی اظہار کیا ہے، تاکہ ’’راہل بھٹ کے اہل خانہ کو یہ محسوس نہ ہو سکے کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں تنہا ہیں، بلکہ پوری کشمیری پنڈت برادری انکے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔‘‘
احتجاج میں شامل کشمیری پنڈتوں نے سیاسی جماعتوں سمیت انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’کشمیری پنڈتوں کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پی ایم پیکج کے تحت ہمارے ساتھ کئی وعدے کئے گئے تھے، لیکن آج تک وہ تمام وعدے وفا نہیں کیے گئے۔ Protest Against Kashmiri Pandit’s killing continues ہمیں معقول سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔‘‘ احتجاج میں شامل کشمیری پنڈتوں نے انتظامیہ سے کشمیر میں مقیم پنڈتوں کو منتقل کیے جانے کی مانگ دہرائی۔