اورنگ آباد: مسلم نمائندہ کونسل نے کہا کہ مذہبی جلوسوں کی آڑ میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو نشانہ بنایا جارہا ہے جب کہ ان جلوسوں کے پیچھے کارفرما طاقتوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ کونسل کی جانب سے اورنگ آباد ڈیویزنل کمشنر کی معرفت صدر جمہوریہ کو ایک مطالباتی میمورنڈم بھیجا گیا جس میں صدر جمہوریہ سے اپیل کی گئی ہے کہ 10 اپریل کے بعد سے ملک کے متعدد علاقوں میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں اور ان میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ Muslims are being targeted under guise of religious processions
میمورنڈم میں بتایا گیا کہ یاترا کے نام پر کچھ لوگ جلوس نکالتے ہیں اور وہ لوگ پوری طرح سے ہتیاروں سے لیس ہو کر مسلم علاقوں میں جاتے ہیں اور وہاں مسلمانوں کو اکساتے ہیں اور وہاں پر پرتشدد کے واقعات ہوتے ہیں۔ تشدد کے واقعات کے بعد جلوس کی حمایت کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہندؤں کو تہوار منانے سے کیوں روکا جارہا ہے، جو بالکل جھوٹ ہے۔ مسلم نمائندہ کونسل کا کہنا ہے کہ جلوسوں میں کھلے عام ہتھیاروں کی نمائش کی جارہی ہے جو انتہائی غلط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Complaint against Gay Husband in High Court: ہم جنس پرست شوہر کے خلاف خاتون پہنچی ہائی کورٹ
مسلم نمائندہ کونسل کے رکن ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے بعد غیرقانونی طور پر ایک طبقہ کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ گھروں کو منہدم کیا جارہا ہے جو سراسر غلط ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں بغیر اجازت نکالی گئی شوبھا یاترا کے دوران کھلے عام ہتھیاروں کے ساتھ ایک طبقہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور تشدد برپا کیا گیا لیکن انتظامیہ کی جانب سے بے قصور لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کونسل نے تشدد کے واقعات کی اعلیٰ سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔