بھنڈی بازار میں مسلمانوں کی کثیر تعداد رہتی ہے اور طویل عرصے سے کانگریس کے رکن اسمبلی یہاں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ علاقے کے مسلمانوں کے حقوق کے لیے کانگریس نے کئی وعدے کیے تھے لیکن وہ وعدے وفا نہیں ہو سکے۔ علاقے کے لوگوں کے لیے ایس بی یو ٹی ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن ان کے خلاف کسی نے آج تک آواز نہیں اٹھائی۔
سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے اسمبلی میں وزیراعلی دیویندر فڑنویس سے سوال کیا کہ 'اس علاقے میں 12 برس سے لوگ ایس بی یو ٹی کے مظالم کے شکار ہیں۔ ری ڈیولپمنٹ کے نام پر کئی آشیانے اجڑ گئے، کئی افراد کے کاروبار کو نقصان پہنچا اور کئی مکانات زمیں بوس کر دیے گئے لیکن کیا بھنڈی بازار اور چور بازار کی رونقیں واپس لوٹ سکیں گی؟
انہوں نے کہا کہ 'برسوں سے قیام پزیر یہاں کے لوگ ایس بی یو ٹی سے تنگ آکر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
مقامی لوگوں میں اس انہدامی کارروائی سے تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی الزام ہے کہ اگر انتظامیہ نے توجہ نہ دی تو ایک مقامی مساجد اور مقبروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سیفی برہانی اپلفٹمنٹ ٹرسٹ کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا موقف ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو انصاف سے کام لینا چاہیے۔
ایس بی یو ٹی کی تشکیل 2009 میں ہوئی تھی۔ اس کا مقصد بوہرہ داؤدی فرقے کو بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ایک بہتر زندگی فراہم کرنا ہے۔ تنظیم نے اس سلسلے میں کئی کام بھی کیے ہیں تاہم بھنڈی بازار میں اس کی سرگرمیوں پر وقتا فوقتا سوالات اٹھتے رہے ہیں۔