ریاست مہاراشٹر کے صنعتی شہر مالیگاؤں میں ان دنوں خود کو ہلاک کرلینے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مالیگاؤں ایک ایسا شہر ہے جو مسلم اکثریتی ہے لیکن وہاں ان دنوں خودکشی کے معاملات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جاریہ ہفتہ میں خودکشی کا یہ چوتھا معاملہ سامنے آیا ہے. لوگ معمولی سی وجوہات کے سبب اپنی زندگی کو ختم کررہے ہیں.گزشتہ شب سروے نمبر 38 نیا اسلام پورہ (مالیگاؤں) میں خالد احمد شکیل احمد (36) سالہ شادی شدہ نوجوان نے اپنے مکان کی چھت سے پھانسی کا پھندا لگاکر مبینہ خودکشی کرلی۔
اس ضمن میں مالیگاؤں پاور لوم ایسوسی ایشن کے صدر یوسف الیاس نے نمائندے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ جمعہ کے دن شہر کے تمام پاورلوم بند ہوتے ہیں۔ چھٹی ہونے کی وجہ سے خالد احمد بھی گھر کے اوپری حصے میں آرام کررہے تھے. بعدازاں رات کے کھانے پر بلانے گئے بھائی کو جب روم کا دروازہ بند ملا تو انہوں نے کھڑکی کے ذریعے اندر جھانک کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اندر کیا ہورہا ہے۔ انہیں سامنے ہی خالد احمد کی لاش جھولے کی رسی سے لٹکتی ہوئے نظر آئی۔
فوری طور پر اس معاملے میں گھر کے ذمہ داران نے محلے کے سرکردہ افراد کی مدد سے اس بات کی اطلاع مقامی کارپوریٹر اور یوسف الیاس کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن شیخ شفیق کو دی۔ اطلاع ملتے ہی سبھی افراد جائے حادثہ پر پہنچے اور قانونی کارروائی کے لئے فوراً عائشہ نگر پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا گیا. عائشہ نگر پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جنرل ہاسپٹل روانہ کردیا۔
سماجی کارکن شیخ شفیق نے بتایا کہ جاریہ ہفتہ میں خودکشی کا یہ چوتھا معاملے ہے۔ تین واقعہ شہری علاقے میں جب کہ ایک واقعہ مالیگاؤں آؤٹر میں پیش آیا۔ موصوف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے اور عوام سے اپیل کی کہ خودکشی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں تمام قانونی مراحل کی تکمیل کے بعد لاش کو اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا. بتایا جارہا ہےکہ خودکشی کرنے کی وجہ تنگدستی اور کئی دوسری وجوہات بتائی جا رہی ہے۔