مالیگاؤں، مہاراشٹر: رمضان المبارک میں یوں تو سبھی کے کاروبار عروج پر ہوتے ہیں لیکن درزیوں کی مصروفیات میں کافی اضافہ ہوجاتا ہے، شب برات سے لے کر عیدالفطر اور عیدالاضحٰی تک اترپردیش، بہار اور دیگر ریاستوں سے کپڑا سِلنے والے کاریگر شہر مالیگاؤں میں قیام کرتے ہیں اور کپڑے سی کر اچھی خاصی کمائی کرلیتے ہیں۔ ان تہواروں کے وقفے کو مقامی زبان میں 'سیزن' بھی کہا جاتا ہے، عالمی وبا کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب گزشتہ برس کپڑا سِلنے والے کاریگروں کی بہت معمولی تعداد نے مالیگاؤں کا رخ کیا تھا۔
اس تعلق سے مالیگاؤں ٹیلر یونین کے صدر انصاری قطب الدین نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ شہر میں ہزاروں کی تعداد میں درزی موجود ہیں، یہاں کے لوگوں میں آج بھی کپڑے سِلوا کر پہننے کا رجحان برقرار ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ روایت بہت پہلے سے جاری ہے کہ پہلے ایک ٹیلر کے پاس درجنوں کاریگر ہوا کرتے تھے اور اچھی خاصی کمائی ہوجاتی تھی لیکن اب یہ منظر بدل رہا ہے۔ لکھیم پور کھیری سے تعلق رکھنے والے درزی معین الدین نے بتایا کہ مالیگاؤں میں زیادہ تر لوگ کپڑے سِلواکر پہننا پسند کرتے ہیں اور تہواروں کے ایام میں مقامی ٹیلرز کے پاس کام زیادہ رہتا ہے جسے وقت پر پورا کرنے کے لیے مختلف ریاستوں سے کپڑے سِلنے والے کاریگروں کو طلب کرتے ہیں جس سے ٹیلرز کے ساتھ ساتھ کاریگروں کو بآسانی کام اور بہترین اجرت مل جاتی ہے۔ Tailors from UP, Bihar and other states Turns to Malegaon