ETV Bharat / state

Attack on Imam Issue جالنا میں مسجد کے امام پر حملے کی جانچ کیلئے چار ٹیموں کی تشکیل - نوا گاؤں کی ایک مسجد

جالنا ضلع کے انوا گاؤں کی جامع مسجد میں تین نامعلوم افراد کی جانب سے مسجد کے امام پر حملہ اور مارپیٹ کے معاملے کی جانچ کے لیے پولیس انتظامیہ نے چار مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ پولیس نے اس ضمن میں کہا کہ جانچ ٹیمں پورے معاملے کی تفتیش کرکے جلد از جلد سے تفصیلی رپورٹ تیار کریں گی۔ اس معاملے میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مسجد کے امام سے مار پیٹ معاملے میں چار ٹیمیں بنائی گئی
مسجد کے امام سے مار پیٹ معاملے میں چار ٹیمیں بنائی گئی
author img

By

Published : Mar 30, 2023, 11:01 AM IST

مسجد کے امام پر حملے کی جانچ کے لئے چار ٹیموں کی تشکیل

جالنا: مہاراشٹر کے جالنا میں واقع بھوکردان تحصیل میں واقع انوا گاؤں کی ایک مسجد میں تین نامعلوم افراد نے امام پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں مذکورہ امام زخمی ہوگئے تھے۔ علاقے میں اب بھی کشیدگی کا ماحول ہے۔ مسجد کے امام کے بیان کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس دو دنوں تک اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن اب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکشے شندے نے اس معاملے پر میڈیا سے بات کی۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکشے شندے نے بتایا کہ مقامی پولیس اور کرائم برانچ کی ٹیم معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ امید ہے کہ جلد سے جلد ملزمان کو پکڑ کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے پولیس کی جانب سے چار مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ تمام زاویوں سے معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ٹیکنیکل ٹیم کا تعاون بھی لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کو جلد پکڑا جا سکے۔ ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے مسجد کے امام نے بتایا کہ میں نامعلوم افراد کو نہیں پہچان سکا کیونکہ انہوں نے اپنے چہرے کو کپڑے سے ڈھک رکھا تھا، لیکن وہ تین افراد آپس میں مراٹھی میں بات کر رہے تھے۔مسجد میں آکر مجھے جے شری رام کے نعرے لگوانے کے لئے دباؤ بنا رہے تھے۔ میں نے جب نعرے لگانے کی مخالفت کی تو مجھ سے مار پیٹ کرنے لگے۔ اس دوران انہوں نے میرے منہ پر کپڑا ڈال دیا جس سے میں بے ہوش ہوگیا جب مجھ کو ہوش آیا تو دیکھا کہ میری داڑھی کٹی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:Stone Pelting In Aurangabad اورنگ آباد میں پتھربازی اور آگ زنی کے سبب حالات کشیدہ

مسجد کے امام سید ذاکر کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح آٹھ بجے جب لوگ نماز کے لئے مسجد پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ مسجد کے امام بے ہوش پڑے ہیں۔ اس کے بعد انھیں سلوڈ کے سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

مسجد کے امام پر حملے کی جانچ کے لئے چار ٹیموں کی تشکیل

جالنا: مہاراشٹر کے جالنا میں واقع بھوکردان تحصیل میں واقع انوا گاؤں کی ایک مسجد میں تین نامعلوم افراد نے امام پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں مذکورہ امام زخمی ہوگئے تھے۔ علاقے میں اب بھی کشیدگی کا ماحول ہے۔ مسجد کے امام کے بیان کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس دو دنوں تک اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن اب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکشے شندے نے اس معاملے پر میڈیا سے بات کی۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکشے شندے نے بتایا کہ مقامی پولیس اور کرائم برانچ کی ٹیم معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ امید ہے کہ جلد سے جلد ملزمان کو پکڑ کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے پولیس کی جانب سے چار مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ تمام زاویوں سے معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ٹیکنیکل ٹیم کا تعاون بھی لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کو جلد پکڑا جا سکے۔ ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے مسجد کے امام نے بتایا کہ میں نامعلوم افراد کو نہیں پہچان سکا کیونکہ انہوں نے اپنے چہرے کو کپڑے سے ڈھک رکھا تھا، لیکن وہ تین افراد آپس میں مراٹھی میں بات کر رہے تھے۔مسجد میں آکر مجھے جے شری رام کے نعرے لگوانے کے لئے دباؤ بنا رہے تھے۔ میں نے جب نعرے لگانے کی مخالفت کی تو مجھ سے مار پیٹ کرنے لگے۔ اس دوران انہوں نے میرے منہ پر کپڑا ڈال دیا جس سے میں بے ہوش ہوگیا جب مجھ کو ہوش آیا تو دیکھا کہ میری داڑھی کٹی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:Stone Pelting In Aurangabad اورنگ آباد میں پتھربازی اور آگ زنی کے سبب حالات کشیدہ

مسجد کے امام سید ذاکر کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح آٹھ بجے جب لوگ نماز کے لئے مسجد پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ مسجد کے امام بے ہوش پڑے ہیں۔ اس کے بعد انھیں سلوڈ کے سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.