بھوپال: ریاست مدھیہ پردیش میں پچھلے کچھ دنوں میں ہوئی لگا تار موسلادھاربارش کے سبب دارالحکومت بھوپال کے ساتھ ریاست کے سبھی اضلاع میں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں لگاتار ہو رہی بارش کے سبب لوگوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تو وہیں ریاست کے کسانوں کو بھی زبردست نقصان ہوا ۔ان کی فصلیں خراب ہوگئیں۔
اس پر کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے کہاکہ جہاں بارش سے کسانوں کی فصل خراب ہوئی ہے تو وہیں اچھی پیداوار کے باوجود مدھیہ پردیش کے کسانوں کی پریشانیاں ختم نہیں ہو رہی ہیں۔کسانوں کو لہسن کی قیمت یہاں کی منڈیوں میں لاگت کی قیمت پر مل رہی ہے۔لہسن کی فصل کے مناسب قیمت نہیں ملنے سے کسان مایوس ہیں۔
سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے کسانوں کو لیکر تشویش کا اظہار کیا اور ریاستی حکومت سے راحت کا مطالبہ کیا ہے۔کمل ناتھ نے ٹویٹ کرکے کسانوں کی پیداوار اور سیلاب سے خراب ہوئی فصلوں کا معاوضہ دینے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا۔مناسب معاوضے سے کسانوں کو کچھ فائدہ ہوسکتاہے۔
وہیں ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کمل ناتھ کے بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمل ناتھ نے کہا تھا کہ جس طرح سے ریاست میں بارش ہو رہی ہے اور سیلاب کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنا ہیلی کاپٹر لے کر عوام کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہیں گے مگر اتنی بارش اور لوگوں کی مصیبت کو دیکھ کر بھی انہوں نے عوام کی کوئی مدد نہیں کی۔بس ٹویٹ کر کے لوگوں کی مدد کرنے کا کام کر رہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف حکومت اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے امدادی کام تیزی سے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:Ramdaha Water Fall مدھیہ پردیش کے سات لوگ چھتیس گڑھ میں غرقاب ہوئے چار ہلاک
وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان خود سیلاب متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔متاثر لوگوں سے ملاقات کرکے انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں۔دوسری جانب کانگریس کے ریاستی صدر اور سابق وزیر اعلی کمل ناتھ صرف ٹویٹ کرکے بارش سے متاثر لوگوں کے لئے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔