کشتواڑ کے کلید لچھ خزانہ میں گزشتہ تیس سال سے پنچایت گھر پرانی بلڈنگ میں موجود ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس بلڈنگ میں پہلے بال آشرم ہوا کرتا تھا پر تیس سال قبل بال آشرم کو وہاں سے ہٹایا گیا۔ اس کے بعد اس بلڈنگ کو محکمہ آر ڈی ڈی کو یعنی کی پنچایت گھر رکھا گیا۔ پر گزشتہ تیس سال سے اس بلڈنگ کو مرمت تک نہیں کی گئی ہے۔ جس کے چلتے اس بلڈنگ کی خستہ حالات ہو چکی ہے۔
مقامی لوگوں نے کئی بار ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ کو پنچایت گھر میں آ رہی پریشانی کے بارے میں آگاہ کیا۔ پر لوگوں کی کوئی سنوائی ہوئی۔
مقامی شخص شرون بڈیال نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف مرکزی سرکار بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لیکن زمینی سطح پر پنچایتوں میں ترقیاتی کاموں کو نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لچھ خزانہ پنچایت کے لوگ پنچایت گھر کے بنہ پریشان حال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشتواڑ: پینے کے پانی کی قلت سے عوام پریشان
انہوں نے مزید کہا کہ پنچایت گھر نہ ہونے سے ہم لوگوں کو سرپنچ تا پنچوں کے گھروں میں جانا پڑتا ہے جو کہ سراسر پنچایت کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پنچایت لچھ خزانہ کے لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر تا ڈپٹی کمشنر کشتواڑ سے پر زور اپیل کی ہے کہ پنچایت گھر کی فوری طور پر مرمت کی جائے اور نئی بلڈنگ بنائی جائے۔