لداخ کی وادی گلوان میں 20 بھارتی فوجی جوانوں کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں چین کے خلاف ناراضگی پائی جارہی ہے اور چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔ چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم میں جموں کے نوجوان پیش پیش نظر آ رہے ہیں، یہاں کے نوجوان ماسک بناکر چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کا پیغام دے رہے ہیں۔
جموں کے مشہور گوناتھ بازار میں رگوناتھ مندر کے سامنے روہت اور امت گپتا نامی دو نوجوان ماسک کے ذریعے چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کا پیغام دے رہے ہیں'۔
ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جموں کے ان نوجوانوں نے کہا کہ' ہم بھی بھارت کے عام لوگوں کی طرح چین کی حرکت پر مایوس اور صدمے میں تھے، اسی درمیان چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم میں ہم نے بھی لوگوں تک پیغام پہنچانے کے جذبے سے فیس ماسک تیار کرنا شروع کردیا۔'
امت گپتا نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہم پہلے سے ہی ماسکز تیار کر رہے تھے تاہم بعد میں چین کی ناپاک ہرکت سامنے آنے بعد ہم نے چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس مہم کے ذریعے گھریلو مصنوعات کو فروغ دے سکتے ہیں اور تاکہ ملک کا پیسہ ملک میں ہی رہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس مہم میں لوگوں کا تعاون بھی مل رہا ہے۔
ملک گیر پیمانے پر بھی چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم جاری ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ عام لوگ اس پر کس حد تک توجہ دیتے ہیں۔