ای ٹی وی بھارت کی ٹیم گاؤں میں داخل ہوتے ہی وہاں کے لوگوں نے مقامی مسجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اعلان کر کے والہانہ استقبال کیا۔
اِن کے مطابق پہلی بار گاؤں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندے کو عوامی آواز سنتے ہوئے دیکھا گیا۔
لوگوں نے بتایا کہ 'ہم نے اس علاقے کو پنچایت حلقے کا درجہ دینے کے لیے ہزار بار حکام کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ہمارے اس دیرینہ مطالبہ کو ہمیشہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔'
بنہ سنگلن، ہرہ سنگلن، چاڑ پورہ، سعید پورہ، لبنن جیسے علاقے کثیر آبادی پر مشتمل ہیں اور اس کو پنچایت حلقہ چوگام کے ساتھ منسلک رکھا گیا ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے دی جانے والی مختلف اسکیموں سے ہم محروم رہ جاتے ہیں جب بھی حکومت کی جانب سے منریگا یا 14 ایف سی اسکیم کے تحت بیروزگار نوجوانوں کے روزگار کے لیے اور علاقے کی تعمیر وترقی کے لئے مختلف کام منظور ہو جاتے ہیں۔
حلقے میں زیادہ گاؤں کے منسلک ہونے کی وجہ سے علاقہ سنگلن کے لوگوں کو ان ترقیاتی کاموں سے کوئی استفادہ نہیں ہوتا ہے کیونکہ ہم پہاڑی لوگوں کے ساتھ ہمیشہ استحصال ہوتا رہتا ہے۔
علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ آج تک کسی نے بھی اس علاقے میں آکر ہمارے مسائل کے حل کے لیے کوئی کوشش نہیں کی، ہاں مگر چناؤ کے موقع پر ووٹ مانگنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ اس علاقے کا رخ کرتے ہیں اور ضلع انتظامیہ بھی ہماری اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
جب ہم نے اس مسئلے کو لے کر ڈسٹرکٹ پنچایت آفیسر عبدالرشید رایو کے ساتھ بات کی تو انہوں نے لوگوں کے درپیش مسائل کے بارے میں بتایا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حد بندی کے عمل کو ملحوظِ نظر رکھا جائے گا اور ان کی اس دیرینہ مانگ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔