ای ٹی وی بھارت سے گفتگو کے دوران شمشاد خان نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، گجرات کے صدر صابر کابلی والا پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا کام کر رہے ہیں جس سے بی جے پی کو فائدہ ہو۔ پارٹی کو آگے کیسے لے جانا ہے، اسمبلی انتخابات کیسے لڑنا، اس بارے میں ان کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے۔ ریاستی صدر یک طرفہ فیصلے لیتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ پارٹی گجرات میں آگے بڑھے اور سیٹیں جیتے۔ اس طرح یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی انتخابی حکمت عملی ہے تو وہ پارٹی کیڈر کے سامنے اس پر بات نہیں کرتے۔ Shamshad Khan Pathan Interview
شمشاد خان پٹھان نے الزام عائد کیا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین گجرات میں گزشتہ کئی مہینوں سے سرگرم نہیں ہے اور زمینی سطح سے غائب ہے اور پارٹی کے ریاستی صدر صابر کابلی والا پارٹی کو اس طرح چلانا چاہتے ہیں کہ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین گجرات میں کمزور رہے اور الیکشن میں ایسے کام کئے جائیں کہ وہ جیتے نہ بلکہ ووٹ کاٹے، جس سے سیدھے طور پر بی جے پی کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ 'میں ایک سماجی کارکن کے طور پر پر قطعی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین گجرات میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والی پارٹی بنی رہے، اس لیے میں نے استعفی دے دیا۔ Gujarat AIMIM
شمشاد خان پٹھان نے ابھی تک اپنا آفیشل استعفیٰ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے دفتر پر جمع نہیں کرایا ہے بلکہ فیس بک پر استعفی دینے کا اعلان کیا، اس پر انہوں نے کہا کہ اگر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین گجرات کے صدر نے صدر کی طرح کام کیا ہوتا تو میں انہیں صدر مان کر آفیشل استعفیٰ دیتا لیکن وہ بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ بی جے پی کو فائدہ ہو اس طریقے سے پارٹی کو چلا رہے ہیں تو میں نہیں مانتا کہ انہیں آفیشیل استعفیٰ دینے کی ضرورت ہے اور میں نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر استعفیٰ کا اعلان کر دیا ہے۔
شمشاد خان نے کہا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین گجرات کے رامول علاقے کے 1400 ممبر نے بھی پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور عنقریب کچھ کونسلرز بھی استعفی دے سکتے ہیں۔ مجھے کس پارٹی میں شامل ہونا اس کے بارے میں رمضان المبارک کے بعد سوچوں گا اور جولوگ استعفی دے رہے ہیں، ان کے ساتھ میٹنگ کر کے آگے کا فیصلہ لوں گا۔
بتایا جا رہا ہے کہ اسدالدین اویسی 14 اپریل کو گجرات دورے پر تھے، افطار پارٹی بھی کی تھی لیکن اس روز بھی شمشاد خان پٹھان کو اسدالدین اویسی سے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ شمشاد خان نے کہا کہ اگر اب اسدالدین اویسی چاہیں گے تو میں واپس آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین گجرات میں شمولیت اختیار کر سکتا ہوں۔ جب اسدالدین اویسی اس معاملے میں دخل دیں گے تبھی میں دوبارہ مجلس جوائن کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہوں۔