احمد آباد: احمد آباد شہر میں آوارہ مویشیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے احمدآباد میں اے ایم سی نئی پالیسی منظور کر لی ہے۔ احمد آباد میونسپل کارپوریشن نے ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یہ نئی پالیسی بنائی ہے جس کے تحت مویشی پالنے والے افراد یا تنظیموں کے ذریعے لازمی لائسنس اور اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جانوروں کے لیے لائسنس رکھنا لازمی ہوگا۔ انفرادی گھر میں رکھے ہوئے مویشیوں کے لیے اجازت نامہ لینا ضروری ہوگا۔ پرمٹ اور لائسنس اے ایس ایم آئی سے لیا جائے گا۔ لائسنس اور پرمٹ کے لیے لگائے گئے چارجز تین سال کے لیے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی اس نئی پالیسی کے مطابق اگر لائسنس اور پرمٹ میں درج تعداد سے زیادہ مویشی پائے گئے تو جرمانہ وصولہ جائے گا تین سال کے لیے لائسنس کی فیس 500 روپے اور پرمٹ کی رقم 250 روپے ہوگی ہر تین سال بعد لائسنس اور پرمٹ کی تجدید کے لیے 200 روپے ادا کیے جائیں گے۔ کلینرز اور گوشالوں کے ساتھ ساتھ تسلیم شدہ تنظیموں کو بھی لائسنس اور پرمٹ حاصل کرنا ہوگی۔ انہیں پیسے سے استثنی حاصل ہوگا پالیسی کے اعلان کے دو ماہ کے اندر آر ایف ائی ڈی اور ٹیکس انسٹال ہونے چاہیے اگر نہیں تو فی جانور سو روپے چارج کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گھاس کی فروخت کے لیے بھی لازمی لائسنس 200 روپے فی مویشی کی رجسٹریشن کرنی ہوگی فی جانور اور جانور کے مالک اور جانوروں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی اس آوارہ مویشیوں کے لئے شہر میں 96 ہاٹ اسپورٹ قرار دیے گئے ہیں۔ احمد آباد میونسپل کارپوریشن نے کیٹل کنٹرول پالیسی کو منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کو پہلے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ کیٹل کنٹرول پالیسی کو ایک اضافی ترمیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا ہے۔