ضلع کی پولیس گاڑی چوروں پر نکیل کسنے کے بجائے رات کو چوروں کی طرح گلیوں میں کھڑی اسکوٹی اور بائیک اٹھا کر عام لوگوں کو سبق سکھا رہی ہے۔لوگوں کو گاڑیوں کو چھڑانے کے لئے ایس ایچ او اور اے سی پی کے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کے اس دور میں پولیس ہراساں کر رہی ہے وہ بھی اس وقت جب ٹرانسپورٹ کا نظام ٹھپ ہے۔ میٹرو بند ہے ، ڈی ٹی سی بسوں میں محدود لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ ایسے میں گاڑیاں پولیس اٹھا کر تھانے لے جاتی ہے ،جس سے ڈیوٹی سمیت تمام طرح کی پریشانیاں لاحق ہیں۔
ویلکم سبھاش پارک ایکسٹینشن کا رہائشی ہریش کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی موٹر سائیکل رات 11 بجے ڈیوٹی سے آکر گھر کے سامنے کھڑی کی تھی۔ تقریباً 20 منٹ کے بعد بائیک کو گھر میں کھڑی کرنے کے لئے باہر آئے تب تک پولیس ان کی گاڑی اٹھا چکی تھی۔
ہریش و دیگر کا الزام ہے کہ پولیس کی کمائی کا یہ نیا ذریعہ ہے۔ گاڑی کے کاغذات دکھانے کے باوجود کئی دنوں تک گاڑی نہیں چھوڑتے ہیں۔ پولیس عام لوگوں کے بجائے گاڑی چوروں کے خلاف کارروائی کرے
سونو کا کہنا ہے کہ پولیس گاڑی چوروں کے بجائے عام لوگوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ پولیس اہلکار رات کے وقت بند گلیوں میں کھڑی بائیک بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ بعض نے زنجیریں لگا رکھیں تھیں پھر بھی پولیس انھیں لے گئی۔
سبھاش پارک ایکسٹینشن ، ویلکم میں جگہ جگہ ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
سونو کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کو اتنا ہی فکر ہے تو پھر گاڑی چوروں کے خلاف کارروائی کرے، عام لوگوں کو کیوں ہراساں کیا جارہا ہے۔اوپر سے کارروائی کا آرڈر ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپر سے آنے والے احکامات کی وجہ سے ایسی کارروائی کی جارہی ہے۔ یہ عمل لوگوں کی بھلائی کے لئے کیا جارہا ہے۔ کچھ لوگوں کی گاڑیاں اٹھیں گی تو دوسرے الرٹ ہوں گے اور وہ گاڑیاں گلی کی بجائے گھر میں رکھیں گے یا تالا یا زنجیر لگائیں گے۔
تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو پریشان کرنے کے بجائے پولیس راتوں میں گشت میں اضافہ کیوں نہیں کرتی ہے۔وہیں شمالی مشرقی ضلع کے ڈی سی پی وید پرکاش سوریہ کا کہنا ہے کہ ضلع میں پولیس کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے کہ گلی میں کھڑی گاڑیوں کو اٹھایا جائے۔ وہ لوگ جو گلیوں میں کھڑی اپنی گاڑیوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔
پولیس یقینی طور پر سیکیورٹی کے لئے ایسی گاڑیاں لے جاتی ہے۔ ضلع میں گاڑیوں کے چوری کے واقعات کو روکنے کے لئے سڑکوں پر پیکٹ لگا کر گاڑیوں کی چیکنگ اور گشت میں اضافہ کیا گیا ہے۔