ETV Bharat / state

مساجد میں افطار کا آغاز کب ہوا؟ - is iftar allowed in mosque?

موجودہ دور میں مساجد میں روزہ افطار کرنے کا رواج عام ہے، لوگ بڑی تعداد میں مساجد میں افطار کرنے کے لیے آتے ہیں۔

متعلقہ تصویر
author img

By

Published : May 14, 2019, 11:26 PM IST

لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ مساجد میں روزہ افطار کرنا کب اور کہاں سے شروع ہوا؟ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں اس سے متعلق کچھ دلچسپ باتیں۔

متعلقہ تصویر

شاہ جہانی مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم احمد اور دہلی کی تاریخ پر مضبوط پکڑ رکھنے والے تاریخ داں محمد فیروز دہلوی نے اسلامک اور تاریخی نقطہ نظر سے اس بات کی وضاحت کی کہ مساجد میں افطار کرنا کب اور کیسے شروع ہوا۔

یہ روایت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلی آرہی ہے کیونکہ آپؐ کے جانثار صحابہ آپؐ کے ساتھ مسجد نبوی میں افطار کیا کرتے تھے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں افطار کر نے کی روایت مسجد نبوی سے جڑی ہوئی ہے، تاہم مسجد کو پکنک اسپاٹ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔

ایسے میں اگر آپ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر خریداری کرنے نکلتے ہیں اور روزے کا وقت ہوجاتا ہے تو آپ محلے میں موجود قریبی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ اس بات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مساجد میں افطار کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ مسافروں کو افطار کرنے میں کوئی دشواری درپیش نہ آئے۔

لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ مساجد میں روزہ افطار کرنا کب اور کہاں سے شروع ہوا؟ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں اس سے متعلق کچھ دلچسپ باتیں۔

متعلقہ تصویر

شاہ جہانی مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم احمد اور دہلی کی تاریخ پر مضبوط پکڑ رکھنے والے تاریخ داں محمد فیروز دہلوی نے اسلامک اور تاریخی نقطہ نظر سے اس بات کی وضاحت کی کہ مساجد میں افطار کرنا کب اور کیسے شروع ہوا۔

یہ روایت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلی آرہی ہے کیونکہ آپؐ کے جانثار صحابہ آپؐ کے ساتھ مسجد نبوی میں افطار کیا کرتے تھے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں افطار کر نے کی روایت مسجد نبوی سے جڑی ہوئی ہے، تاہم مسجد کو پکنک اسپاٹ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔

ایسے میں اگر آپ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر خریداری کرنے نکلتے ہیں اور روزے کا وقت ہوجاتا ہے تو آپ محلے میں موجود قریبی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ اس بات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مساجد میں افطار کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ مسافروں کو افطار کرنے میں کوئی دشواری درپیش نہ آئے۔

Intro:مساجد میں افطار کا آغاز کب ہوا؟

موجودہ دور میں مساجد میں روزہ افطار کرنے کا رواج عام ہے لوگ بڑی تعداد میں مساجد میں افطار کرنے کے لئے آتے ہیں.



Body:لیکن کیا آپ کو معلوم ہے مساجد میں روزہ افطار کرنا کہاں سے شروع ہوا کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے آئیے جانتے ہیں اس سے متعلق کچھ دلچسپ باتیں

رمضان المبارک جس میں ہر بالغ مرد اور عورت کو روزہ رکھنا فرض ہے حالانکہ اس میں کچھ لوگوں کو جھوٹ بھی دی گئی ہے لیکن بغیر شرعی عذر کے روزہ نہ رکھنا گناہ میں شمار کیا جاتا ہے

ایسے میں اگر آپ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر خریداری کرنے نکلتے ہیں اور روزے کا وقت ہوجاتا ہے تو آپ محلے میں موجود قریبی مسجد کا رخ کرتے ہیں اس بات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مساجد میں افطار کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ مسافروں کو افطار کرنے میں کوئی دشواری درپیش نہ آئے.

یہ روایت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلی آرہی ہے کیونکہ آپ کے جانثار صحابہ آپ کے ساتھ ہیں مسجد نبوی میں افطار کیا کرتے تھے

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں افطار کر نے کی روایت مسجد نبوی سے جڑی ہوئی ہے تاہم مسجد کو پکنک اسپوٹ بنا دینا درست نہیں ہیں


مسجد کا احترام کرنا ہمارے لئے ضروری ہے اس سے متعلق آ شاہجہانی مسجد فتح پوری کے شاہی امام مفتی مکرم احمد نے اور دہلی کی تاریخ پر مضبوط پکڑ رکھنے والے تاریخ داں محمد فیروز دہلوی نے اسلامک اور تاریخی نقطہ نظر سے اس بات کی وضاحت کی کہ مساجد میں افطار کرنا کب اور کیسے شروع ہوا.


Conclusion:بائٹ بالترتیب

محمد فیروز دہلوی، تاریخ داں
ڈاکٹر مفتی مکرم احمد، شاہی امام، مسجد فتح پوری
ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.