گزشتہ کئی برسوں سے سیاحوں نے یہاں آنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ جھیل کا پانی بالکل گندہ ہو گیا ہے، پانی سوکھ رہا ہے اور ہر طرف لمبی لمبی جھاڑیاں نکل گئی ہیں۔
جھیل کے ایک سرے پر ایک بھلسوا ڈیری ہے، جہاں گائے بھینسیں پالی جاتی ہیں جن کے فضلات اسی جھیل کے پانی میں جاتے ہیں جس سے پورے جھیل کا نیلا پانی آلودہ ہو گیا ہے۔
اس سلسلہ میں آر ڈبلیو اے اور مقامی سماجی کارکنوں نے آواز اٹھائی۔ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ کمیٹیوں نے ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ مقامی ایم ایل اے اور کارپوریٹرز سے بھی رابطہ کیا۔
یہاں بائیو گیس پلانٹ لگانے کا منصوبہ طے پایا تاکہ بھلسوا ڈیری سے جانوروں کے فضلات جھیل میں نہ جائیں لیکن یہ منصوبہ بھی التوا کا شکار ہے۔
یہ شروع تو نہیں ہوا لیکن مسلسل گوبر اور فضلے کی وجہ سے جھیل آلودہ ہو چکی ہے۔ حکومت بھی توجہ نہیں دے رہی ہے۔
مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو یہاں سخت رخ اپنانا ہوگا۔ جھیل میں گائے کے گوبر اور فضلہ ڈالنے والوں کے چالان کرنے ہوں گے تب ہی اس گندگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔
بصورت دیگر بہتری کی گنجائش نہیں ہے۔ ساتھ ہی حکومت کے ساتھ مل کر سیاحوں اور علاقے کے مکینوں کو بھی جھیل کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ قدرت کے اس شاہکار کا حسن بحال ہو جائے۔
بھلسوا جھیل کی خوبصورتی کا خیال رکھتے ہوئے سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے، تاکہ قدرت کے دیے ہوئے اس تحفے سے بھرپور لطف حاصل کیا جا سکے۔