ان سبھی مریضوں کو چھٹی دے دی گئی ہے جن میں منگیر کے تین، سہرسہ کے دو اور بیگو سرائے کا ایک مریض شامل ہے۔ مونگیر کی ایک خاتون اور بچے کو ایمبولینس کے ذریعہ گھر بھیج دیا گیا ہے۔
ان سبھی کو اسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد 14 دنوں تک ہوم کورنٹائن میں رہنا ہوگا۔ یہ سبھی چھہ لوگ گزشتہ 14 دنوں سے ڈاکٹروں کی نگرانی میں اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں رکھے گئے تھے۔
چند دنوں قبل ای ٹی وی بھارت کے نمائندہ کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر ہیم شنکر شرما نے کہا تھا کہ چند دوائیاں اس بیماری میں کارآمد ثابت ہورہی ہیں اور ان مریضوں کی صحتیابی بھاگلپور کے ڈاکٹروں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
واضح رہے کہ ابھی تک بھاگلپور میں صرف ایک ہی کورونا کا پازیٹیو مریض ملا ہے۔ لیکن اس بیماری کو لے کر لوگوں میں دہشت اتنی ہے کہ خود بھاگلپور کے سول سرجن تک میڈیا سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں مائک قریب آنے کی وجہ سے انہیں کورونا نہ ہوجائے۔
ایسی صورتحال میں ان چھہ مریضوں کی اسپتال سے چھٹی لوگوں کو حوصلہ بخشے گی اور خوف زدہ لوگوں میں ایک مثبت پیغام جائے گا
حالانکہ ڈاکٹر بھی بتاتے ہیں اور اعداد وشمار سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کورونا میں موت کی شرح دو سے ڈھائی فیصد ہی ہے۔ لہذا خوف زدہ ہونے کی نہیں بلکہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
ابھی فی الحال جواہر لال میڈیکل کالج و ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں صرف دو مریض زیر علاج ہیں۔ ایسی صورتحال میں کورونا سے خوف زدہ لوگوں کے لیے بڑی راحت کی بات ہے کہ ہم اپنے ڈاکٹروں اور نرس کی مدد سے کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔