اس موقعے پر علما کرام نے ماہ محرم کی فیضلت کا ذکر تے ہوئے کہا کہ 'محرم کا مہینہ برکت والا مہینہ ہے۔ اس کی دسویں تاریخ کو یوم عاشورہ کہا جاتا ہے، یہ دن اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک خصوصی رحمت، بڑی عظمت و بزرگی، برکت کا حامل اور فضل و شرف والا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان کے بعد افضل روزہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محرم کا روزہ ہے اور فرض نماز کے بعد افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔ ( مسلم شریف)۔'
![نوجوان محرم میں خرافات سے بچیں](https://etvbharatimages.akamaized.net/etvbharat/prod-images/br-ara-01-moharram-visbyte-7204693_09092019165046_0909f_1568028046_464.jpg)
انہوں نے مزید کہا کہ 'محرم کی ایک تاریخ سے لے کر دسویں تاریخ تک ہونے والی بدعت و خرافات پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کا جام اس لیے نہیں پیا تھا کہ لوگ خرافات شروع کردیں بلکہ یہ مہینہ تو غم خواری کا مہینہ ہے اور اپنے اندر ایک داعیہ پیدا کرنے کا مہینہ ہے کہ حق کے لیے اپنی گردن تک کٹا دیں گے مگر باطل کے آگے سر نہ جھکائیں گے۔'
قاضی شریعت مفتی عتیق اللہ رحمانی نے کہا کہ 'عاشورہ کے روز ہر نیک کام کا بڑا اجر ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دسویں محرم کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے دس ہزار فرشتوں کی عبادت اور دس ہزار شہداءکا ثواب عطا فرماتا ہے۔'
مفتی ہمایوں اقبال ندوی نے کہا کہ 'رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص عاشورہ کے روز اپنے گھر والوں پر کھانے پینے میں کشادگی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سال بھر اس کے مال و زر میں وسعت عطا فرماتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ کے راستے میں شہید کبھی مرتے نہیں بلکہ وہ دنیا سے اوجھل ہوتے ہیں۔'
قاری نیاز احمد قاسمی نے کہا کہ 'اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھول تاشے کو ختم کرنے کے لیے بھیجا تھا اور حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد کسی صحابہ نے تعزیہ داری نہیں کی تو بھلا آج کا مسلمان ایسا کیوں کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے۔'
ماسٹر ارشد انور الف نے کہا کہ 'آج ضرورت ہے سماج کے نوجوانوں کو بیدار کرنے کی کہ وہ جس خرافات میں مبتلا ہیں۔ دین اسلام اس کی بالکل بھی اجازت نہیں دیتا بلکہ ایسا کر کے وہ شہداء کربلا کی روح کو تکلیف پہنچا رہے ہیں۔'