گیا کے شیرگھاٹی بلاک کے حمزہ پور بوتھ پر ایک امیدوار کی اہلیہ کا ہی ووٹ چوری ہوگیا۔ پنچایت سمیتی کے امیدوار تبریز خان جب اپنی اہلیہ اجمیری بانو کو حق رائے دہی کا استعمال کرانے پہنچے تو بوتھ پر موجود پولنگ اہلکاروں نے بتایا کہ ان کے نام سے پہلے ہی ووٹنگ ہوچکی ہے۔ پھر کیا تھا اتنا سننے کے بعد امیدوار اوران کی اہلیہ غصے سے آگ بگولہ ہوگئیں اور وہ بوتھ پر موجود افسران اور اہلکاروں سے سوال کرنے لگی۔
اجمیری بانو نے صاف طور پر پولنگ اہلکاروں پر کسی ایک خاص امیدوار کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے اس تہوار میں اگر کسی کی حق تلفی سرکاری پشت پناہی میں ہوتی ہے تو یہ باعث تشویش ہے۔'
انہوں نے جب ووٹ کیا نہیں تو پھر کس نے ان کا ووٹ ڈالا، اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اگر بایو میٹرک سسٹم میں بھی ووٹ کی چوری ہو تو پھر ووٹنگ کا متبادل کیا ہوگا؟ یہ سوچنے کی بات ہے، جبکہ پنچایت سمیتی کے امیدوار تبریز خان نے کہا کہ ایک امیدوار کے ساتھ ہی جب ایسا ہوگا تو پھر عام ووٹرز کا کیا حال ہوگا۔'انہوں نے کہا کہ شکایت کے باوجود اس پر روک نہیں لگائی گئی ہے چونکہ ووٹنگ کے آخری مرحلے میں اس طرح کے معاملات زیادہ ہوتے ہیں۔'