سرحدی قصبہ اوڑی کے ترکانجن، بونیار علاقے میں سنہ 1990 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پُل ڈہہ گیا تھا، جسے فوج نے1992 میں تعمیر کرکے عوام کے لیے وقف کر دیا تھا۔
دہائیاں قبل جنگی بنیادوں پر تعمیر کیے گئے پل کی حالت خستہ ہو چکی ہے۔
مقامی باشندوں نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’تر کانجن پل درجنوں دیہات کو جوڑتا ہے جس پر روزانہ سینکڑوں چھوٹی بڑی، مسافر بردار اور مال بردار گاڑاں گزرتی ہیں۔‘‘ انکے مطابق ’’خستہ حال پل کبھی بھی حادثے کا موجب بن سکتا ہے۔‘‘
مزید پڑھیں: سرینگر اور جموں کے ہسپتالوں میں کڈنی ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب
انہوں نے انتظامیہ سے ترکانجن نالے پر جدید پل تعمیر کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خستہ حال پل کے حوالے سے ای ٹی وی بھارت نے متعلقہ محکمہ کے عہدے داروں سے رابطہ کیا انہوں نے کہا کہ جلد ہی پل کی تعمیر نو کا کام شروع کیا جائے گا۔