ضلع اننت ناگ کے کولپورہ اڈیگام کوکرناگ کے ایک دور افتادہ گاؤں کی داستان سُن کر انسان کو پتھر کے زمانے کی یادیں تازہ ہو جاتی ہے۔
علاقہ کوکرناگ کے اس گاؤں میں آج کی تاریخ تک یہاں کے لوگوں نے بجلی کا نام تو سُنا ہے مگر کبھی دیکھی نہیں۔ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں سائنس نےاتنی ترقی کرلی ہے کہ انسان کی روز مرہ کی زندگی کا دارمدار اسی پر منحصر ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا کہلانے والے ہمارے ملک میں کچھ ایسے بھی علاقے ہیں جہاں انسان کی یہ اہم ضرورت انسانوں کیلۓ ابھی محض ایک خواب ہے۔
ان ہی بد نصیب علاقوں میں کوکرناگ کے ایک دور افتادہ کولپورہ گاؤں شامل ہے جو ابھی تک بجلی کی روشنی سے محروم ہے۔
اس گاؤں کے لوگوں نے بجلی دور سے ہی دوسرے لوگوں کے گھروں میں دیکھی ہے، مگر ریاستی سرکار نے ان کے گھروں میں بجلی آج کی تاریخ تک نہیں پہنچائی۔ جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ پتھر کے زمانے کے قدیم انسان کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں کے لوگ آج بھی شام ڈھلتے ہی لکڑی جلاکر اپنے گھروں میں روشنی کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور ان غریب لوگوں کے بچےاسی لکڑی یا موم بتی کی روشنی کے نیچے پڑھتے اور لکھتے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے بچے تعلیم کے نور سے منور ہونا چاہتے ہیں۔ مگر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں برسوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔
دور جدید میں موبائل فون کی اہمیت سے کون واقف نہیں ۔ مگر یہاں کے لوگوں کو موبائل فون چارج کرنے کیلئے بھی دوسرے گاؤں کا رخ کرنا پڑھتا ہے۔
لاک ڈاؤن کے باوجود بھی ان لوگوں کو موبائل چارج کرنے کیلۓ گھروں سے نکل کر دوسرے گاوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی سے یہ لوگ ان سائنسی ایجادات سے محروم ہیں جنہیں ہم ضروریات زندگی کیلۓ اہم تصور کرتے ہیں۔
آجکی تاریخ تک سبھی سیاست دانوں نے ان لوگوں کو بجلی کے خواب تو دکھائے لیکن وہ خواب ہمیشہ سراب ثابت ہوئے ۔
ان لوگوں نے ریاستی انتظامیہ سے گزارش کی کہ وہ ان غریب لوگوں کی فریاد سنیں اور بجلی کی روشنی سے ان کا مستقبل روشن کیا جائے۔