بورس جانسن یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے کیف پہنچ گئے۔ یوکرین کی وزارت دفاع نے جانسن اور زیلنسکی کی ویڈیو کو آفیشل ٹویٹر پر شیئر کیا اور لکھا کہ، برطانیہ کے وزیراعظم جانسن اور یوکرین کے صدر کیف کی سڑکوں پر نکل آئے۔ دونوں نے شہر کے وسط میں یوکرین کے عام شہریوں سے بات چیت بھی کی۔ یہی جمہوریت نظر آتی ہے۔ یہی ہمت نظر آتی ہے۔ جانسن کے دورہ کیف کے حوالے سے یوکرین کی وزارت دفاع نے کہا کہ لوگوں اور اقوام کے درمیان حقیقی دوستی عیاں ہے۔
اس سے قبل برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہفتے کو ہونے والی ملاقات میں برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو طویل مدتی امداد سمیت مالی اور فوجی امداد کے نئے پیکج پر بات چیت کی۔ یہ دورہ جانسن کی جانب سے یوکرین کے لیے اعلیٰ صلاحیت والے فوجی سازوسامان خریدنے کے لیے مزید 100 ملین پاؤنڈ کے اعلان کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ جانسن نے کہا ہے کہ برطانیہ یوکرین کی مدد کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ مسلسل روسی حملوں کے درمیان اپنا دفاع کر سکے۔ برطانوی وزیر اعظم کے یوکرین کے دورے کے حوالے سے یوکرین میں صدر کے دفتر کے نائب سربراہ آندریج سبیہا نے تصدیق کی کہ دونوں رہنما کیف میں ملاقات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: British PM Boris Johnson Arrived in Kyiv: برطانوی وزیراعظم یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچے، زیلنسکی سے ملاقات کی
جمعہ کو جرمن چانسلر اولاف شولٹز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران جانسن نے کہا تھا کہ وہ یوکرائنی فوج کو ایک طیارہ شکن میزائل اور مزید 800 ٹینک شکن میزائل دیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مزید ہیلمٹ، نائٹ ویژن آلات اور دیگر ہتھیاروں کا وعدہ کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ سے دو لاکھ غیر مہلک فوجی سازوسامان کی کھیپ پہلے ہی یوکرین پہنچ چکی ہے۔