برلن: کورونا پابندیوں کے سبب جرمن وزیر صحت اور ان کے بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ جرمن میڈیا کے مطابق وزیر صحت کارل لاؤٹر باخ نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں اور ان کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔لاؤٹر باخ نے اپنا یہ عہدہ گزشتہ برس سنبھالا تھا اور انھیں یہ دھمکیاں حکومت کی طرف سے عائد کردہ کرونا پابندیوں کی وجہ سے مل رہی ہیں۔German health minister shocked by death threats to kids
وبائی امراض کے ماہر لاؤٹر باخ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صورت حال اب ایسی ہو چکی ہے کہ وہ کولون میں اپنے ہی گھر کے باہر اپنی کار پارک نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ اب وہ محافظوں کے بغیر گھر سے باہر قدم تک نہیں رکھ سکتے، نہ صرف ان کی جان کو خطرہ ہے، بلکہ بچوں کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔لاؤٹر باخ نے مزید بتایا ’’میں ذاتی محافظوں کے بغیر شام کو باہر چہل قدمی کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔‘‘
واضح رہے کہ لاؤٹرباخ کو کرونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات کے مخالفین کی طرف سے بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے، جرمن تفتیش کاروں نے رواں سال کے شروع میں ایک ایسے ریاست مخالف گروہ کا پردہ فاش کیا تھا، جو مبینہ طور پر لاؤٹر باخ کے اغوا کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
لاؤٹر باخ نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ جرمنی کووڈ انفیکشنز میں ایک اور اضافے کی طرف گامزن ہے، انھوں نے متعدد جرمن ریاستوں میں قرنطینہ قوانین میں نرمی کرنے پر بھی وہاں کے مقامی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لاک ڈاؤن پابندیوں اور ویکسینیشن کے قوانین کی وجہ سے ماضی میں بھی متعدد جرمن سیاست دانوں، سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کو موت کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: G20 Summit وزیراعظم مودی نے جرمن چانسلر سے ملاقات کی
یو این آئی