شام میں گزشتہ دس سالوں سے جاری تنازع کے باعث شامی بچے بغیر گھر کے ہو گئے ہیں کیونکہ ملک میں تشدد کے باعث ایک بڑی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور ایسے میں کسی کے پاس چھت بھی نہیں بچی ہے۔
یونیسیف نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے ایک پوری نسل کو خطرہ ہو گیا ہے کیونکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران تنازع جاری ہے اور مقامی بچے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
یونیسیف نے کہا ہے کہ ''یہ حالات بہت سارے بچے اور کنبوں کے لئے غیر یقینی ہو گئے ہیں، شام میں 90 فیصد بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، صرف پچھلے سال میں اس میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔''
یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے کہا کہ شام میں بچے اور کنبے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ایک دہائی کے تنازعہ نے شام میں بہت سارے بچوں اور کنبوں پر حیرت انگیز اثرات مرتب کیے ہیں۔
شام میں پانچ سال سے کم عمر کے پچپن لاکھ سے زائد بچے غذائیت کی کمی کے شکار ہیں۔ شام میں تقریباً 2.45 ملین بچے اور پڑوسی ممالک میں 750،000 اضافی شامی بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ان میں 40 فیصد لڑکیاں ہیں۔