موگریني کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران جوہری معاہدہ کے سلسلہ میں ویانا میں چھ دسمبر کو ایک اہم میٹنگ ہونے والی ہے۔
موگریني نے بدھ کو یوروپی پارلیمنٹ کے سیشن کے دوران کہا 'ہم ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مشترکہ مجموعی ایکشن منصوبہ (جےسي پي او) کی سفارتی اور سیکورٹی اہمیت کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اس معاہدے کو بچائے رکھنا اب کافی مشکل ہو گیا ہے'۔
یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ امریکہ کے اس معاہدے سے باہر ہونے کے بعد اس کو بچانے کے لیے مسلسل محنت کی جا رہی ہے جس کے لیے سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
غور طلب ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال مئی میں ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے تعلقات بہت ہی تلخ ہو گئے ہیں۔
اس جوہری معاہدے کی دفعات لاگو کرنے پر بھی شکوک و شبہات کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے ایران پر کئی قسم کی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیاتھا۔ معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا۔