محکمہ اسکول ایجوکیشن نے نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو یہ ہداہت جاری کی ہیں کہ وہ بچوں سے صرف ٹیوشن فیس وصول کریں وہیں اساتذہ اور دیگر عملے کی تنخواہیں واگزار کی جائیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق نجی تعلیمی ادارے طلبہ سے سہ ماہی بنیاد کے بجائے ماہانہ بنیاد پر اسکول فیس لینگے اور تعلیمی سال 2020_21 کے دوران ٹیوشن فیس میں کوئی اضافہ نہیں کرینگے۔ وہیں اس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی نجی تعلیمی ادارہ غریب اور پسماندہ طبقوں سے وابستہ بچوں کو کسی بھی صورت میں آن لائن کلاسز اور تعلیمی مواد فراہم کرنے سے محروم نہیں رکھ سکتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مزکورہ اسکول کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی عمل میں لائی جائےگی۔
واضح رہے گزشتہ سال اگست میں مرکزی سرکار کی جانب سے دفعہ 370کی منسوخی کے بعد کئی مہینوں تک اسکولوں میں تعلیمی اور تدریسی سرگرمیاں معطل رہی تھیں۔ جبکہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے بیچ طلبہ زائد از 5مہینوں تک گھروں میں ہی محصور رہے۔ جس کے بعد بھی نجی اسکولوں نے والدین سے ٹیوشن کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ فیس کا تقاضا کرنا بھی شروع کر دیا تھا لیکن انتظامیہ کی جانب سے مداخلت کے بعد طلبہ سے محض ٹیوشن فیس ہی وصول کیا گیا۔
ادھر اب یہ معاملہ پھر سے موجودہ لاک ڈاؤن کے دوران منظر عام پر آیا ہے جس میں اب محکمہ تعلیم نے فورا مداخلت کرکے اس حوالے سے باضاطہ طور حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ٹرانسپورٹ فیس ادا نہ کریں اور نجی اسکول انتظامیہ بھی طلبہ کے والدین کو ٹرانسپورٹ فیس ادا کرنے کے لیے تنگ طلب نہ کریں۔