مئو ضلع میں مدارسِ عربیہ کا تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔ گزشتہ دو تعلیمی سیشن سے مدارس میں درس و تدریس کا عمل پوری طرح بند ہے۔ حکومت کی گائڈ لائنز کے مطابق مدرسہ کے ہاسٹل میں طلبا کی رہائش پر بھی پابندی عائد ہے۔ مدارس میں زیرِ تعلیم طلبا دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا انہیں ہاسٹل کی سہولت مہیا کرائی جاتی ہے۔ ان میں بیشتر طلبا پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیگر تعلیمی اداروں کی طرح مدارس عربیہ میں بھی آن لائن کلاسز جاری رکھنے کی ہدایت اترپردیش حکومت نے دی ہے۔ حالانکہ اس پر عملدرآمد میں مدارس کو کافی مشکل ہورہی ہے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ مدارس کے بیشتر طلبا کے پاس اینڈرائڈ فون دستیاب نہ ہونا ہے۔ اساتذہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح طلبا کو ان کے مواد کے مطابق مواد آن لائن مہیا کرایا جائے۔ اترپردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ، ضلع میں موجود محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے افسران کے ذریعے سرکاری گائڈ لائنز کے مطابق عملدرآمد کرانے پر زور آزمائش کررہا ہے۔ جب ای ٹی وی بھارت نے مئو کے اقلیتی فلاح و بہبود آفیسر سے بات چیت کی تو انہوں نے اس ضمن میں کافی مایوسی کا اظہار کیا۔ آفیسر متواتر کوششوں کے باوجود بھی مطمئن نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہم اظہاررائے کی آزادی کے نہیں شرانگیزی اور منفی رپورٹنگ کے خلاف ہیں: مولاانا ارشد مدنی
ان کا کہنا ہے کہ جب تک مدارس میں عملی طور پر طلبا کی حاضری نہیں ہوگی، تب تک تعلیمی نظام درست نہیں ہوگا۔ مدراس میں درس و تدریس کا عمل بند ہونے سے طلبا کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔