اس سے قبل راج بھون نے قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کو خط بھیج کر درخواست دی تھی کہ گورنر کے خطاب کو الیکٹرانک میڈیا میں براہ راست نشر کرنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن اسمبلی سکریٹریٹ نے جوابی خط میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اسمبلی تک میڈیا کی رسائی کو محدود کردیا گیا ہے۔ اسی لئے گورنر کے بجٹ تقریر کو نشر کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ممبران اسمبلی اور اسمبلی میں کام کرنے والوں کی صحت کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔
اسمبلی کا بجٹ اجلاس 2 جولائی سے شروع ہورہا ہے اور اس کا آغاز جمعہ کی دوپہر 2 بجے گورنر کی تقریر سے ہورہا ہے۔ 2020 میں بھی راج بھون سے قانون ساز اسمبلی کے سکریٹریٹ سے ایسی ہی ایک درخواست کی گئی تھی ۔مگر اس وقت بھی کورونا وائرس کا عذر پیش کرکے گورنر کی تقریر کو براہ راست نشر کرنے سے انکار کردیا گیا تھا۔
گورنر کے خطاب کو لے کر گزشتہ دودنوں سے تناز ع جاری ہے۔مغربی بنگال حکومت نے ایک طرف جہاں اس بات پر مصر ہے کہ قواعد کے مطابق گورنر کو کابینہ کے منظور کردہ تقریر کو ہی پڑھنا ہوگا۔ مگر دوسری جانب گورنر نے حکومت کے لکھے ہوئے خطبے کو پڑھنے سے انکار کردیا ہے ۔ان کا الزام ہے کہ ریاستی کابینہ کے منظور کردہ تقریر کے مسودے میں حقائق نہیں ہے۔کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پارلیمانی قوانین کے مطابق گورنر حکومت کےمنظور کردہ خطبے کو پڑھنے کو مجبور ہے ۔مگر وہ خطبے کے دوران اپنے مشاہدات کا ذکر کرسکتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:
عیدالاضحیٰ کے موقع پر لوگوں سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل
کل ریاستی وزیر تعلیم برتیہ باسو نے گورنر کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے عہد ہ کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔دوسری جانب بی جے پی کے سینئر لیڈر اور تری پور ومگھالیہ کے گورنر رہ چکے تتاگت رائے نے برتہ باسو کو چیلنج کرتے ہوئے لکھا کہ کیا وہ دکھائیں گے کہ کہا ں پر لکھا ہے کہ گورنر کو حکومت کا لکھا ہوا خطبہ ہی پڑھنا ہے۔انہو ں نے کہا کہ میں جب تری پورہ کا گورنر تھا تو میں بھی حکومت کا منظور کردہ خطبہ نہیں پڑھا تھا۔اس پر ممبران اسمبلی نے احتجاج کیا تھا۔
ریاستی حکومت اور گورنر کے درمیان اختلافات میں وقت گزرنے کے ساتھ شدت آتی جارہی ہے ۔ مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر ، بمان بنرجی نے حال ہی میں مغربی بنگال کے گورنر کے خلاف لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے شکایت کی تھی کہ گورنر مقنہ کو کام کرنے نہیں دے رہے ہیں ۔اسمبلی سے منظور ہونے کے باوجود بلو پر دستخط نہیں کررہے ہیں ۔
یواین آئی