دراصل ضلع انتظامیہ چاہتا ہے کہ تمام مذہبی مراکز کھولے جائیں اور اس میں عبادت ہو لیکن پانچ آدمی کو عبادت کے لئے دی گئی شرط کو تمام مذہبی رہنماؤں نے مسترد کر دیا ہے۔ اب تمام مذہب کے رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تیس جون تک کوئی بھی مذہبی مراکز یا مقامات نہیں کھولے جائیں گے۔
گزشتہ 22 مارچ سے لاک ڈاؤن کے لگتے ہی کانپور کے تمام مذہبی مقامات مسجد، مندر، گردوارے، چرچ وغیرہ بند تھے۔ سبھی مساجد میں امام، مؤذن اور دیگر افراد کو ملا کر پانچ آدمی کو سماجی فاصلہ قائم رکھتے ہوئے نماز ادا کرنے کی اجازت تھی۔
عام آدمی کے لیے مسجد میں تالا لگا ہوا تھا۔ مسجد میں اذان بھی ہوتی تھی اور پانچ لوگ نمازیں بھی ادا کر رہے تھے۔ اب جب سے لاک ڈاؤن کھلا ہے تمام مذاہب کے مذہبی مقامات کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن ضلع انتظامیہ کی ابھی بھی یہ شرط قائم ہے کہ ایک وقت میں پانچ آدمی سے زیادہ نماز نہ ادا کریں۔
ایسی صورت میں مسجد کی انتظامیہ کے بس سے یہ بات باہر ہے کہ وہ کیسے پانچ-پانچ آدمیوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے اور کتنی بار کتنی جماعتیں ایک نماز کے لیے بنائی جائے۔ کون-کون کس جماعت میں جماعت سے نماز ادا کرے گا۔ مسجد انتظامیہ انہیں کیسے روک سکے گا۔ باقی دیگر لوگ مسجد میں نہ آئے اس کا انتظام سنبھالنا مسجد انتظامیہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس لیے مسجد، مندر، گرودوارہ اور چرچ کے رہنماؤں نے مل کر ضلع انتظامیہ کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور یہ مطالبہ رکھا کہ یا تو ہمیں پوری آزادی کے ساتھ اپنی-اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کی اجازت دی جائے اور اگر ضلع انتظامیہ کی پانچ آدمی کی شرط قائم ہے تو پھر پہلے کی ہی طرح سے عبادت گاہوں کو بند رہنے دیا جائے۔
کانپور میں کورونا وائرس کے مریض کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے مذہبی رہنماؤں کا فیصلہ کسی حد تک ٹھیک لگتا ہے کیونکہ جن نئے علاقوں سے گزشتہ پانچ دن میں تیزی سے اس وباء کے مریض نکل کر سامنے آئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ کانپور میں یہ وباء بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، اس لیے ایسے وقت میں مذہبی رہنماؤں کا لیا گیا یہ فیصلہ سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔