ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں واقع وشو ہندو پریشد کے قومی جوائنٹ جنرل سیکریٹری راگھوولو نے گزشتہ روز شہریت ترمیمی قانون کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ 'شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ کرنے سے ' ھندوازم' کی حفاظت مطلوب ہے۔'
انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم نریندر مودی کی یہ حکومت ان تمام ہندو، سکھ، عیسائی، بودھ، پارسی اور جین مہاجرین کو بھارتی شہریت دے گی جو افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں مذہبی بنیاد پر ظلم و استبداد کا شکار ہوئے اور انہیں جلا وطن ہونے پر مجبور کیا گیا۔'
انہوں نے مزید کہا کہ 'نریندر مودی کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے کیونکہ اس کے ذریعے ہندوازم کی حفاطت ہو سکے گی۔'
راگھوولو نے یہ بھی کہا کہ 'اب تک کی سابقہ حکومتوں نے اس معاملے پر غور ہی نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے اس قانون میں کچھ ترمیم کی، اب اگر نریندر مودی اس طرح کا کام انجام دیے رہے ہیں تو اس میں غلطی کیا ہے'۔
تلنگانہ وی ایچ پی کے صدر راما راجو نے کہا کہ 'سی اے اے کے خلاف احتجاج صرف اقلیتی برادری نے کیا ہے'۔
مزید پڑھیں: جے این یو تشدد: مختلف سیاسی رہنماؤں کا رد عمل
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کے ذریعے مسلمانوں کے علاوہ تمام مذاہب کے لوگوں کو شہریت عطا کریے گا جو 31 دسمبر سنہ 2014 سے قبل بھارت آگئے تھے۔