دارالحکومت دہلی کے شاہ جہانی جامع مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد ایک بار پھر شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
سابق رکن اسمبلی شعیب اقبال نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کہنا ہے وہ این آر سی نافذ نہیں کر رہے جبکہ امت شاہ مسلسل یہ کہ رہے ہیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے بعد این آر سی کی باری ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ شاید مودی اور امت شاہ کے درمیان کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
وہیں دوسری جانب موجودہ کونسلر آل محمد اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ جو پارٹی مسلسل احتجاجی مظاہروں کے لیے جانی جاتی ہے وہ شہریت ترمیمی ایکٹ پر خاموش کیوں ہے۔
انہوں نے کہا کہ انا آندولن سے مشہور ہوئی سیاسی جماعت خاموشی سے سی اے اے کی حمایت کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اترپردیش پولیس کو پر تشدد کاروائی نہیں کرنی چاہیے تھی: عاطف رشید
اس دوران اسٹیج پر موجود نکیتا چترویدی نے اپنی تقریر میں کہا کہ جو مسلمانوں کو ملک سے باہر نکالنے کی بات کرتے ہیں ان سے میں کہنا چاہتی ہوں کی جامع مسجد اور اور تاج محل اس بات کے ثبوت ہیں کہ وہ بھارت کے شہری ہیں۔