سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والی خواتین کا پولیس کے اوپر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ہمیں روکا، ہم سے بنگلہ دیشی کہا، زبردستی جیپ میں بٹھانے کی کوشش کی، ہمیں ڈرایا اور ہم سے کہا تم لوگ پانچ پانچ سو روپے لے کر احتجاجی مظاہرہ کرتی ہو۔
'بنگلہ دیشی' کہی جانے کی خبر کو سن کر آس پاس کے لوگ موقع پر اکھٹے ہو گئے اور خاصی تعداد میں خاتون پولیس، سی او (سول لائن) انیل ثمانیہ کے ساتھ سول لاین تھانہ انچارج امیت بھی موجود تھے۔
خواتین کا کہنا ہے کہ بڑے صاحب جو گاڑی سے آئے تھے انہوں نے ہم کو 'بنگلہ دیشی' کہا اور پانچ پانچ سو روپے لے کر احتجاج کرنے کا بھی الزام لگایا۔
احتجاجی مظاہرہ کرنے والی سبھی خواتین نے ایک درخواست دی جس میں انہوں نے کل یعنی اٹھارہ تاریخ کو ساڑھے چار بجے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت بھی مانگی۔
اسمتہ سنگھ ڈسٹرکٹ پروبیشن آفیسر نے بتایا سی اے اے، این آر سی کے خلاف پرامن مارچ نکالنے کے لئے درخواست دی ہے اور اجازت مانگ رہی ہیں جو ڈی ایم صاحب کے ذریعے دی جاتی ہے میں نے کہا کوئی بھی مارچ بنا اجازت کے نہیں نکال سکتے تے۔
بنگلہ دیشی کہے جانے پر سوال پوچھنے پر اسمتہ سنگھ کسی بھی طرح کا کوئی بیان دینے سے بچتی نظر آئیں اور کہا اس کے بارے میں مجھے کوئی اطلاع نہیں ہے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔
وہیں مظاہرہ کرنے کے دوران زخمی خاتون نے کہا ہم ہندوستانی ہیں، خاتون پولیس نے میرا ہاتھ پکڑ کر گاڑی میں بٹھانے لگے۔ میں نے کہا سب آئے تو میں بھی آؤں گی۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ ہم بھی ہندوستانی ہیں۔ میرا پیچھا کیا میں بھاگ رہی تھی جس کے دوران میں گر گئی اور میرے چوٹ بھی لگی۔