ETV Bharat / business

Reliance Calls Future Retail Deal: فیوچر گروپ معاہدے سے پیچھے ہٹا ریلائنس گروپ - بینکوں کی عدم اتفاق ریلائنس نے فیوچرگروپ معاہدہ سے پیچھے ہٹا

ریلائنس انڈسٹریز نے بگ بازار اور فوڈ بازار جیسے اسٹور چلانے والے کشور بِیانی کی قیادت والے فیوچر گروپ کے ریٹیل اور لاجسٹکس کاروبار کو خریدنے کے سودے سے ہٹنے کا اعلان کیا۔ Reliance Calls Future Retail Deal

author img

By

Published : Apr 23, 2022, 8:49 PM IST

خبروں کے مطابق ریلائنس انڈسٹریز فیوچر گروپ کے ریٹیل اور لاجسٹکس کاروبار کو خریدنے کے سودے سے ہٹنے کا یہ فیصلہ فیوچر گروپ کے بینکوں کی جانب سے گروپ کے ریٹیل اسٹور، ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے کاروبار کو فروخت کرنے کی پیشکش کو مسترد کیے جانے کے بعد کیا ہے۔ Reliance calls off deal with Future

ریلائنس انڈسٹریز نے اگست 2020 میں فیوچر گروپ کے کاروبار کے تحویل کا اعلان کیا تھا۔ دونوں کے درمیان 24713 کروڑ روپے کا سودا ہواتھا Reliance Rs 24,731 crore deal with Future Retail۔ اس کے تحت ریلائنس گروپ کے ریلائنس ریٹیل وینچرس لمیٹڈ (آر آر وی ایل) کے ذریعے بیانی کی قیادت والے فیوچر گروپ کے ریٹیل اور دوسرے کاروبار کرنے والی کمپنیوں کا تحویل کیا جانا تھا۔

اس معاہدے پر فیوچر گروپ کے شیئر ہولڈرس اور اسے گارنٹی شدہ قرض دینے والے بینکوں کی ووٹنگ بدھ کو کروائی گئی تھی اور اس کے نتائج کا اعلان فیوچر ریٹیل نے جمعہ کو کیا۔

فیوچر ریٹیل نے شیئر مارکیٹ کو بتایا تھا کہ اسے قرض دینے والے 70 فیصد گارنٹی شدہ قرض دہندگان (بینکوں ) نے کاروبار ریلائنس گروپ کو فروخت کرنے کے منصوبے کے خلاف ووٹ دیا۔

فیوچر ریٹیل نے بازاروں کو کل بتایا تھا کہ اس کے 85.9 فیصد شیئر مارکیٹ ریلائنس کے ساتھ معاہدے کے حق میں تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کل ملا کر اس کی کمپنیوں کے 78 فیصد شیئر ہولڈر اور بلا گارنٹی قرض دینے والے سودے کی حمایت میں رہے، لیکن اسے گارنٹی شدہ قرض دینے والے کم از کم 75 فیصد قرض دہندگان کی حمایت نہیں ملی، جو ضابطے کے مطابق سودے کی منظوری کے لیے ضروری تھا۔

ریلائنس نے ہفتے کے روز سیبی کے ضابطوں کے مطابق بازار کو دی گئی اطلاع میں کہا کہ فیوچر گروپ کی فیوچر ریٹیل لمیٹیڈ (ایف آر ایل) اور دیگر فہرست بند کمپنیوں نے سودے کے بارے میں ووٹنگ کے نتائج کی اطلاع جاری کر دی ہے۔ ان کے زیادہ تر گارنٹی شدہ قرض دہندگان نے اس سودے کےخلاف ووٹ دیا ہے، ایسے میں (فیوچر گروپ کے ساتھ اس کی) متلقہ منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔

فیوچر کو قرض دینے والے بینکوں میں بینک آف انڈیا، یونین بینک آف انڈیا، بینک آف بڑودہ، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، انڈین بینک، سینٹرل بینک، ایکسس بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک شامل ہیں۔

ماہرینِ قانون کے مطابق بینکوں کی جانب سے اکثریت کی بنیاد پر معاہدے کو مسترد کرنے کے بعد نیشنل کمپنی لا ء ٹربیونل (این سی ایل ٹی ) سے کلیئرنس حاصل کرنا مشکل تھا۔ غور طلب ہے کہ امریکہ کی ریٹیل کمپنی ایمیزون بھی فیوچر ریلائنس ڈیل کی قانونی طور پر مخالفت کر رہی تھی۔

مزید پڑھیں:

یو این آئی

خبروں کے مطابق ریلائنس انڈسٹریز فیوچر گروپ کے ریٹیل اور لاجسٹکس کاروبار کو خریدنے کے سودے سے ہٹنے کا یہ فیصلہ فیوچر گروپ کے بینکوں کی جانب سے گروپ کے ریٹیل اسٹور، ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے کاروبار کو فروخت کرنے کی پیشکش کو مسترد کیے جانے کے بعد کیا ہے۔ Reliance calls off deal with Future

ریلائنس انڈسٹریز نے اگست 2020 میں فیوچر گروپ کے کاروبار کے تحویل کا اعلان کیا تھا۔ دونوں کے درمیان 24713 کروڑ روپے کا سودا ہواتھا Reliance Rs 24,731 crore deal with Future Retail۔ اس کے تحت ریلائنس گروپ کے ریلائنس ریٹیل وینچرس لمیٹڈ (آر آر وی ایل) کے ذریعے بیانی کی قیادت والے فیوچر گروپ کے ریٹیل اور دوسرے کاروبار کرنے والی کمپنیوں کا تحویل کیا جانا تھا۔

اس معاہدے پر فیوچر گروپ کے شیئر ہولڈرس اور اسے گارنٹی شدہ قرض دینے والے بینکوں کی ووٹنگ بدھ کو کروائی گئی تھی اور اس کے نتائج کا اعلان فیوچر ریٹیل نے جمعہ کو کیا۔

فیوچر ریٹیل نے شیئر مارکیٹ کو بتایا تھا کہ اسے قرض دینے والے 70 فیصد گارنٹی شدہ قرض دہندگان (بینکوں ) نے کاروبار ریلائنس گروپ کو فروخت کرنے کے منصوبے کے خلاف ووٹ دیا۔

فیوچر ریٹیل نے بازاروں کو کل بتایا تھا کہ اس کے 85.9 فیصد شیئر مارکیٹ ریلائنس کے ساتھ معاہدے کے حق میں تھے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کل ملا کر اس کی کمپنیوں کے 78 فیصد شیئر ہولڈر اور بلا گارنٹی قرض دینے والے سودے کی حمایت میں رہے، لیکن اسے گارنٹی شدہ قرض دینے والے کم از کم 75 فیصد قرض دہندگان کی حمایت نہیں ملی، جو ضابطے کے مطابق سودے کی منظوری کے لیے ضروری تھا۔

ریلائنس نے ہفتے کے روز سیبی کے ضابطوں کے مطابق بازار کو دی گئی اطلاع میں کہا کہ فیوچر گروپ کی فیوچر ریٹیل لمیٹیڈ (ایف آر ایل) اور دیگر فہرست بند کمپنیوں نے سودے کے بارے میں ووٹنگ کے نتائج کی اطلاع جاری کر دی ہے۔ ان کے زیادہ تر گارنٹی شدہ قرض دہندگان نے اس سودے کےخلاف ووٹ دیا ہے، ایسے میں (فیوچر گروپ کے ساتھ اس کی) متلقہ منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔

فیوچر کو قرض دینے والے بینکوں میں بینک آف انڈیا، یونین بینک آف انڈیا، بینک آف بڑودہ، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، انڈین بینک، سینٹرل بینک، ایکسس بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک شامل ہیں۔

ماہرینِ قانون کے مطابق بینکوں کی جانب سے اکثریت کی بنیاد پر معاہدے کو مسترد کرنے کے بعد نیشنل کمپنی لا ء ٹربیونل (این سی ایل ٹی ) سے کلیئرنس حاصل کرنا مشکل تھا۔ غور طلب ہے کہ امریکہ کی ریٹیل کمپنی ایمیزون بھی فیوچر ریلائنس ڈیل کی قانونی طور پر مخالفت کر رہی تھی۔

مزید پڑھیں:

یو این آئی

ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.