حیدرآباد: ٹیکس حساب کتاب کو کسی بھی حالت میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ٹیکس کی ادائیگی کے سلسلسلے میں شکوک و شبہات ہمیشہ برقرار رہتے ہیں کہ آپ کو کتنا ٹیکس ادا کرنا ہے اور آپ کے لیے کون سا یعنی پرانا یا نیا ٹیکس سسٹم فائدہ مند ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکس دہندگان کی مدد کے لیے انکم ٹیکس (آئی ٹی) ڈیپارٹمنٹ نے اپنے پورٹل پر ٹیکس کیلکولیٹر کو متعارف کرایا ہے۔ اس کے استعمال سے آپ آسانی سے یہ جان سکتے ہیں کہ کس نظام میں کتنا ٹیکس نافذ ہے اور کون سا فائدہ مند ہے۔
رواں مالی برس 2022۔23 کے لیے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی اجازت یکم اپریل سے دی جائے گی۔ اسی تناظر میں آئی ٹی ٹیکس کیلکولیٹر کو ٹیکس دہندگان میں ٹیکس کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ نئے اور پرانے دونوں نظاموں میں اپنے قابل اطلاق ٹیکس کو جاننے کے لیے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ - www.incometax.gov.in پر آئی ٹی ٹیکس کیلکولیٹر پر نظر ڈالیں۔ آپ آسان کلک کے ساتھ 'انکم ٹیکس کیلکولیٹر' دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ اس پر کلک کریں گے تو دو آپشن سامنے آئیں گے۔ 1 بیسک کیلکولیٹر۔ 2 ایڈوانسڈ کیلکولیٹر۔ دونوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کتنی رقم میں کتنا ٹیکس ہے۔ بیسک کیلکولیٹر میں آپ کو اسیسمنٹ سال، ٹیکس دہندگان کی قسمیں وغیرہ کو منتخب کرنا ہوگا۔ اپنی سالانہ آمدنی اور اپنی کل کٹوتیاں درج کرکے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ پرانی اور نئی ٹیکس نظام کے تحت کتنا ٹیکس ادا کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:
ایڈوانسڈ کیلکولیٹر قابل ادائیگی ٹیکس کے مزید تفصیلی حساب کتاب کے لیے مفید ہے۔ پہلے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت ہوگی کہ آپ کس ٹیکس نظام پرانے اور نئے ٹیکس سسٹم کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اسیسمنٹ سال، ٹیکس دہندگان کا زمرہ، ٹیکس دہندگان کی عمر، رہائشی اسٹیٹس وغیرہ منتخب کریں۔ آپ کو کیلکولیٹر کے ذریعے پوچھے گئے تفصیلات بتانے ہوں گے۔ پہلے اپنی تنخواہ کی آمدنی درج کریں۔ اگر آپ کے گھر سے آمدنی ہے (گھر پر سود ادا کیا جاتا ہے، کرایہ سے آمدنی)، سرمائے کی آمدنی، دیگر ذرائع سے کوئی آمدنی۔ متعلقہ سیکشنز میں مکمل معلومات دیں۔ ٹیکس دہندگان اپنی آمدنی، استثنیٰ وغیرہ کے بارے میں معلومات سے محکمہ انکم ٹیکس کے فراہم کردہ کیلکولیٹر کا استعمال کرتے ہوئے خود ٹیکس کا حساب لگا سکتے ہیں۔