ہماچل پردیش کے وزیر ٹرانسپورٹ گووند ٹھاکر نے آج واضح کیا کہ حکومت نے ابھی بس کرایہ بڑھانے کے سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے البتہ اس پر غور ضرور کررہی ہے۔
مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ کرایہ بڑھانے کے سلسلے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کئی تجویزوں پر جمعہ کو محکمے کے افسروں کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں غور و خوض کیا گیا ہے۔ کرایہ بڑھانے سے متعلق تجویز کابینہ کی اگلی میٹنگ میں پیش کی جاسکتی ہے۔
ریاست میں اس سے پہلے ستمبر 2018 میں بس کرایہ میں تقریباً تیس فیصد کا اضافہ کیاگیا تھا۔ ریاست میں کورونا کے بحران اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو تقریباً 130 کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ نجی بس آپریٹر بھی اقتصادی نقصان جھیل رہے ہیں۔کورونا کے دور میں سماجی دوری کا دھیان رکھتے ہوئے پہلے بسوں میں پچاس فیصد سواریاں بٹھانے کی ہی اجازت تھی لیکن سو فیصدی سواریوں کے ساتھ بسیں چل رہی ہیں۔
نجی بس آپریٹر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ریاستی حکومت پر کم از کم 50 فیصد کرایہ بڑھانے کا دباؤ بنا رہے ہیں۔ حکومت اگر ان کا مطالبہ مان لیتی ہے تو لوگوں پر اضافی اقتصادی بوجھ پڑنا طے ہے۔ خیال رہے کہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے بیڑے میں اس وقت 3300 بسیں ہیں۔ ان کے علاوہ 3100 نجی بسیں سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ خرچ زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی نجی آپریٹر بسیں نہیں چلارہے ہیں اور صرف 800 کے قریب بسیں ہی چل رہی ہیں۔