سنگرولی: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ کی طرف سے صحت کے حوالے سے دی گئی سخت ہدایات کے باوجود سنگرولی ضلع کا ٹراما سینٹر ہمیشہ اپنی لاپرواہی کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں مریض کے لیے ایمبولینس نہ ہونے کی صورت میں بیوی اور معصوم بیٹے کے ذریعہ اس کو ٹھیلے پر بٹھا کر ڈسٹرکٹ اسپتال ٹراما سینٹر لے گئے۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد محکمہ صحت اور ضلع انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
دراصل سنگرولی ضلع کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کا ایک انتہائی شرمناک ویڈیو سامنے آیا ہے۔ یہاں اپنی ماں کے ساتھ تقریباً 7 سال کا ایک لڑکا اپنے والد کو ہتھ گاڑی میں لے کر تقریباً 3 کلومیٹر کا سفر طے کر کے علاج کے لیے ضلع اسپتال پہنچا۔ بتایا جا رہا ہے کہ شاہ خاندان کا ایک شخص اچانک بیمار ہو گیا جس کی اطلاع 108 ایمبولینس کو دی گئی لیکن 20 منٹ بعد بھی ایمبولینس نہیں پہنچی۔ اس کے بعد جب مریض کی حالت سنگین ہونے لگی تو اس کی بیوی اور اس کے 7 سالہ معصوم بیٹے نے مریض کو ٹھیلے پر لاد کر فوری طور پر علاج کے لیے ضلع اسپتال روانہ ہوگئے۔
مزید پڑھیں:۔ Patient Taken Hospital on A Wheelbarrow ایمبولینس نہ ملنے پر مریضہ کو ٹھیلے سے اسپتال پہنچایا گیا
یہ دیکھ کر راستے میں موجود ایک شخص نے ویڈیو اپنے موبائل میں قید کر لی اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ اس کے بعد اب افسران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ محکمہ صحت کو بہتر بنانے کے لیے حکومتیں بہت سے انتظامات کرتی ہیں۔ بیدھن ضلع اسپتال کی بات کریں تو یہاں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ڈاکٹروں اور سی ایم ایچ او کی بے حسی کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہےحالانکہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی تقریباً چار سے پانچ ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ جیسے ہی اے ڈی ایم ڈی پی برمن کو اس پورے معاملے کا علم ہوا، فوری طور پر اے ڈی ایم نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ تحقیقات کے بعد جو بھی قصوروار پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی بات کی گئی ہے۔