پیس پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر ایوب انصاری نے ایک بیان میں مرکز اور اترپردیش کی بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے پورے پانچ سال تک صرف عوام کو گمراہ کرنے، بھائی چارہ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، ملک کی یکجہتی و سالمیت اور روزگار کو ختم کرنے کا کام کیا، جس سے عوام میں آج اشتعال کا ماحول ہے۔ بی جے پی اسمبلی الیکشن میں عوام کے مابین اپنی مقبولیت کو سدھارنے کے لیے فسطائیت کا سہارا لے کر ہندو مسلم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
پیس پارٹی کے قومی صدر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری ریلیز میں کہا کہ عوام کو بی جے پی کے ایسے متبادل کی ضرورت ہے جو ان کی امیدوں پر پورا اتر سکے، یہ متبادل صرف سنیکت مورچہ ہی دے سکتا ہے۔ Ayub Surgeon Targets BJP
ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت کر کس کو کیا کھانا پہننا ہے ،اب اس کا فرمان جاری کر رہی ہے ۔بی جے پی حکومت کا بیٹی پڑھاو بیٹی بچاو کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہوکر رہ گیا ہے ،آج خواتین و بچے کوئی محفوظ نہیں ہے ۔کالجوں میں آج مسلم طالبات کو حجاب میں آنے سے روکا جارہا ہے ۔حجاب میں آنے والی طالبات پر بی جے پی و آر ایس ایس کے غنڈے حملہ کر دہشت زدہ کر رہے ہیں ۔صوبہ میں روزگار ختم ہو چکا ہے ،صرف حکومت اخباروں میں اشتہار دے کر ترقی کا ڈھول پیٹ رہی ہے ۔جبکہ ترقی کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔
اس الیکشن میں بی جے پی کے پاس کوئی ترقی کا ایشو نہ ہونے کے سبب فسطائیت کے سہارے وہ اپنی کشتی پار لگانا چاہتی ہے ۔عوام بی جے پی حکومت سے اوب چکی ہے ،اس کو ایسی حکومت چاہیئے جو روزگار ،ترقی دے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کر سکے ۔سنیکت مورچہ عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بی جے پی و مبینہ سیکولر پارٹیوں سے ہوشیار رہیں ،اور سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں ۔بی جے پی کا صرف واحد متبادل سنیکت مورچہ ہے ، جس کی حمایت کر اپنے خوابوں کو پورا کریں ۔انہوں نے کہا کہ سنیکت مورچہ کو اکثریت میں عوام کی حمایت مل رہی ہے ،اس الیکشن میں سنیکت مورچہ کے بغیر کسی کا اقتدار میں آنا ممکن نہیں ہے۔
یو این آئی۔