کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کسانوں کی بے قابو ہوتی تحریک اور ملک کی رو بہ زوال معیشت کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ انھیں غرور اور تاناشاہی رویہ ترک کرکے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا،’وزیراعظم کو یاد رکھنا چاہیے تھا جب جب غرور سچائی سے ٹکراتا ہے، شکست کھاتا ہے۔ سچائی کی لڑائی لڑنے والے کسانوں کو دنیا کی کوئی حکومت نہیں روک سکتی۔ مودی حکومت کو کسانوں کے مطالبات ماننے ہی ہوں گے اور کالے قانون واپس لینے ہوں گے۔ یہ تو بس آغاز ہے‘۔
انہوں نے ملک کی بگڑتی معیشت کے سلسلے میں بھی مسٹر مودی کو کٹگھرے میں کھڑا کیا اور کہا کہ معیشت کی ترقی تاناشاہی ڈھنگ سے نہیں ہو سکتی ہے اور مسٹر مودی کو اس بات پر توجہ رکھنا بہت ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا،’وزیراعظم مودی کی قیادت میں بھارت کی معیشت پہلی بار سرکاری طور پر مندی کے دور میں آئی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ تین کروڑ عوام منریگا کے تحت روزگار کی تلاش میں ہے۔ معیشت کو تاناشاہی کے ذریعے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ وزیراعظم کو پہلے اس بنیادی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘۔