اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکام نے ہفتے کے روز ایک پولیس افسر کو رمضان سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ہندوؤں کو ہراساں کرنے کے الزام میں معطل کر دیا۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق معطل افسر پر رمضان کے مہینے میں عوام میں کھانے پینے پر پابندی سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے، ہندوؤں کو ہراساں کرنے، حملہ کرنے اور گرفتار کرنے کا الزام ہے۔
دی ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ضلع گھوٹکی کے خانپور تھانے کے انچارج افسر قابل بھیو چھڑی سے چند دکانداروں کو مار رہا تھا جن میں مبینہ طور پر خریداروں کے لیے بریانی تیار کر رہے، ہندو بھی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے ایک شخص نے کہا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا تعلق ہندو برادری سے ہے۔ ہم رمضان کے دوران اپنی دوکان پر لوگوں کو بیٹھا کر کھانا نہیں کھلاتے۔ تاہم ایس ایچ او نے کھلے عام ہندو ریسٹورنٹ کے مالک کو اپنی مقدس کتاب کی قسم کھانے پر مجبور کیا۔
مزید پڑھیں:۔ Hindu Girl Shot Dead in Pakistan: پاکستان کے سکھر میں ہندو لڑکی کا قتل
پولیس افسر نے مار پیٹ کر ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے سکھر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اور گھوٹکی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو پولیس افسر کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے خط لکھا۔ ایس ایچ آر سی کے چیئرمین اقبال ڈیتھو نے سینئر پولیس افسران کو معاملے کی تحقیقات کرانے اور ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا جس کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔