پاکستانی فضائیہ نے جب سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے بھارتی سرزمین پر بھیجے تھے اس کا پیچھا کرتے ہو ئے بھارتی فضائیہ کا ایک مگ۔21 بسون طیارہ تباہ کریش ہو کر پاکستان کی سرحد میں جا گرا۔ اس طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈرابھینندن کو پاکستان کی اپنی حراست میں لے لیا ہے۔
ابھینندن کی رہائی کے لیے پورا ملک دعا کر رہاہے۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر دشمن ملک میں جنگی بندی کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے؟ اور ان کے وطن واپسی کس قانون کے تحت ہوتی ہے؟
بین الاقوامی پروٹوکال کے تحت کسی ملک کا کوئی فوجی اگر دشمن ملک میں بندی بنا لیا جاتا ہے، تو اس پر بین الاقوامی پروٹوکال نافذ ہو جاتا ہے۔
جنگی بندی کے حقوق کو بنائے رکھنے کےلیے جنیوا کنونشن ہوا تھا۔ جنیوا کنونشن میں جنگ کے دوران گرفتار فوجیوں کے حقوق کے تحفظات سے متعلق قانون ہیں۔جنیوا کنونشن سے متعلق جنگی بندی کیا حقوق ہیں۔آئییے جانتے ہیں۔
جنگ کے دوران زخمی ہونے والے جنگی بندی کا اچھے طریقے سے علاج ہونا چاہیئے۔
جنگی بندی کے ساتھ کسی طرح کا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیئے۔
جوانوں کو قانونی چارہ جوئی کی سہولیات مہیا کرانی ہوگی
جنگی بندیوں کو ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا ہے
جنگی بندیوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے
انہیں ذلیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
جنگ کے بعد انہیں واپس لوٹانا ہوتا ہے۔
جنگی بندیو سے صرف ان کے نام ،عہدہ، نمبر اور یونیٹ کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔
اس سمجھوتے کے تحت کھانے۔پینے اور ضرورت کی سبھی اشیا مہیا کرائی جاتی ہیں۔