ETV Bharat / bharat

مانو: قومی اردو سائنس کانگریس کا آج دوسرا دن - اُردو میں سائنس لکھنے اور سائنس کو فروغ

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مرکز برائے فروغ علوم (سی پی کے یو) اور اسکول برائے سائنسی علوم کے زیر اہتمام چوتھا قومی اردو سائنس کانگریس اجلاس کا کل افتتاح ہوچکا ہے۔ جس میں نکول پاراشر اور ڈاکٹر شیام سندر مہمان ہیں۔

مانو: قومی اردو سائنس کانگریس کا آج دوسرا دن
مانو: قومی اردو سائنس کانگریس کا آج دوسرا دن
author img

By

Published : Feb 26, 2020, 9:11 AM IST

Updated : Mar 2, 2020, 2:49 PM IST

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی مرکز برائے فروغ علوم (سی پی کے یو) اور اسکول برائے سائنسی علوم کے زیر اہتمام اُردو میں سائنس لکھنے اور سائنس کو فروغ دینے والے سائنسدانوں، ادیبوں، مولفین، مترجمین، مدرسین اور شائقین کے لیے 25 فروری 2020 کو سائنس کانگریس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس کا آج (26 فروری 2020) دوسرا دن ہے۔

ڈاکٹر عابد معز، کنسلٹنٹ سی پی کے یو و کنوینر کانگریس کے بموجب اس کا موضوع ”اُردو زبان میں سائنس کا فروغ“ ہے۔

ڈاکٹر نکول پاراشر، ڈائرکٹر وگیان پرسار، نئی دہلی مہمانِ خصوصی اور ڈاکٹر شیام سندر پرساد، ماہر امراض چشم، حیدرآباد مہمان اعزازی ہوں گے۔

پہلے دن ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ پروفیسر ایوب خان، پرو وائس چانسلر خطبہ استقبالیہ پیش کیا، جبکہ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار انچارج نے تعارفی کلمات ادا کیے۔

واضح رہے کہ اردو سائنس کانگریس ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کی ذہنی اختراع ہے، جو ماہر نباتیات ہیں۔

انہوں نے اردو عوام میں سائنسی علوم اور مزاج کو فروغ دینے کے لیے ”سائنس“ رسالے کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اردو سائنس کانگریس کے انعقاد کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

اس اہم کام میں اردو اور سائنس کے متوالوں کی ایک ٹیم ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ مانو میں پہلی قومی اردو سائنس کانگریس کا 2017ءمیں منعقد ہوئی۔ اس سے قبل ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کانگریس کو دہلی اور علی گڑھ میں منعقد کرچکے تھے۔ یہ اس سلسلہ کی چوتھی کڑی ہے۔

قومی اردو یونیورسٹی 2017، 2018 اور 2019 میں سائنس کانگریس منعقد کرچکی ہے۔

گذشتہ سال 2019 میں مانو میں تیسری اردو سائنس کانگریس کا 28 فروری اور یکم مارچ کو انعقاد ہوا۔ جس میں 50 مقالے پیش کیے گئے۔ افتتاحی و اختتامی اجلاس میں ممتاز اسکالر ڈاکٹر قاضی سراج اظہر، یونیورسٹی آف مشی گن، امریکہ بحیثیت مہمانِ خصوصی شریک تھے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر قیصر جمیل افتتاحی اجلاس میں مہمانِ اعزازی تھیں۔

سنہ 2018ء میں 8اور 9 فروری کو کانگریس کا انعقاد عمل میں آیا تھا۔ اس میں 77 مقالے پیش کیے گئے۔ شاہ شمس الدین عثمانی تبریز، پرنسپل ایمیریٹس، انگلش اسپیکنگ اسکول، دبئی مہمانِ خصوصی تھے۔ ڈاکٹر آنند راج ورما، سابق پرنسپل انوار العلوم کالج ، حیدرآباد مہمان اعزازی تھے۔

سنہ 2017ء میں 16 اور 17 فروری کو مانو پہلی مرتبہ قومی سائنس کانگریس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ پروفیسر ایس راما چندرم وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

پروفیسر شمس الاسلام فاروقی،سابق پرنسپل سائنٹسٹ انڈین ایگریکلچر ل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، دہلی اور ڈاکٹر محمد اقتدار حسین فاروقی، سابق ڈپٹی ڈائرکٹراورصدر شعبہ نباتی کیمیا، نیشنل بوٹانیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لکھنو بھی کانگریس میں شریک تھے۔

اس میں ملک بھر سے70 سے زیادہ سائنس کے ماہرین، مصنفین، سائنس داں، مترجمین، اساتذہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی قومی اردو سائنس کانگریس کو جوڑتے ہوئے اسے ایک پائیدار پلیٹ فارم عطا کیا ہے، جو سائنسی علوم سے دلچسپی رکھنے والے اردو طلبہ کے لیے کسی سوغات سے کم نہیں۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی مرکز برائے فروغ علوم (سی پی کے یو) اور اسکول برائے سائنسی علوم کے زیر اہتمام اُردو میں سائنس لکھنے اور سائنس کو فروغ دینے والے سائنسدانوں، ادیبوں، مولفین، مترجمین، مدرسین اور شائقین کے لیے 25 فروری 2020 کو سائنس کانگریس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس کا آج (26 فروری 2020) دوسرا دن ہے۔

ڈاکٹر عابد معز، کنسلٹنٹ سی پی کے یو و کنوینر کانگریس کے بموجب اس کا موضوع ”اُردو زبان میں سائنس کا فروغ“ ہے۔

ڈاکٹر نکول پاراشر، ڈائرکٹر وگیان پرسار، نئی دہلی مہمانِ خصوصی اور ڈاکٹر شیام سندر پرساد، ماہر امراض چشم، حیدرآباد مہمان اعزازی ہوں گے۔

پہلے دن ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ پروفیسر ایوب خان، پرو وائس چانسلر خطبہ استقبالیہ پیش کیا، جبکہ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار انچارج نے تعارفی کلمات ادا کیے۔

واضح رہے کہ اردو سائنس کانگریس ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کی ذہنی اختراع ہے، جو ماہر نباتیات ہیں۔

انہوں نے اردو عوام میں سائنسی علوم اور مزاج کو فروغ دینے کے لیے ”سائنس“ رسالے کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اردو سائنس کانگریس کے انعقاد کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

اس اہم کام میں اردو اور سائنس کے متوالوں کی ایک ٹیم ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ مانو میں پہلی قومی اردو سائنس کانگریس کا 2017ءمیں منعقد ہوئی۔ اس سے قبل ڈاکٹر محمد اسلم پرویز کانگریس کو دہلی اور علی گڑھ میں منعقد کرچکے تھے۔ یہ اس سلسلہ کی چوتھی کڑی ہے۔

قومی اردو یونیورسٹی 2017، 2018 اور 2019 میں سائنس کانگریس منعقد کرچکی ہے۔

گذشتہ سال 2019 میں مانو میں تیسری اردو سائنس کانگریس کا 28 فروری اور یکم مارچ کو انعقاد ہوا۔ جس میں 50 مقالے پیش کیے گئے۔ افتتاحی و اختتامی اجلاس میں ممتاز اسکالر ڈاکٹر قاضی سراج اظہر، یونیورسٹی آف مشی گن، امریکہ بحیثیت مہمانِ خصوصی شریک تھے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر قیصر جمیل افتتاحی اجلاس میں مہمانِ اعزازی تھیں۔

سنہ 2018ء میں 8اور 9 فروری کو کانگریس کا انعقاد عمل میں آیا تھا۔ اس میں 77 مقالے پیش کیے گئے۔ شاہ شمس الدین عثمانی تبریز، پرنسپل ایمیریٹس، انگلش اسپیکنگ اسکول، دبئی مہمانِ خصوصی تھے۔ ڈاکٹر آنند راج ورما، سابق پرنسپل انوار العلوم کالج ، حیدرآباد مہمان اعزازی تھے۔

سنہ 2017ء میں 16 اور 17 فروری کو مانو پہلی مرتبہ قومی سائنس کانگریس کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ پروفیسر ایس راما چندرم وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

پروفیسر شمس الاسلام فاروقی،سابق پرنسپل سائنٹسٹ انڈین ایگریکلچر ل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، دہلی اور ڈاکٹر محمد اقتدار حسین فاروقی، سابق ڈپٹی ڈائرکٹراورصدر شعبہ نباتی کیمیا، نیشنل بوٹانیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لکھنو بھی کانگریس میں شریک تھے۔

اس میں ملک بھر سے70 سے زیادہ سائنس کے ماہرین، مصنفین، سائنس داں، مترجمین، اساتذہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔

ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی قومی اردو سائنس کانگریس کو جوڑتے ہوئے اسے ایک پائیدار پلیٹ فارم عطا کیا ہے، جو سائنسی علوم سے دلچسپی رکھنے والے اردو طلبہ کے لیے کسی سوغات سے کم نہیں۔

Last Updated : Mar 2, 2020, 2:49 PM IST
ETV Bharat Logo

Copyright © 2025 Ushodaya Enterprises Pvt. Ltd., All Rights Reserved.