فزیکس آف فلوڈز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کو روکنے کے لئے چھ فٹ کی موجودہ سماجی اور جسمانی دوری کے رہنما خطوط کافی نہیں ہوسکتے ہیں۔
- کھانسی اور تھوک کا ہوائی سفر:
فزیکس آف فلوڈز کے مطابق 'ہلکی کھانسی بھی چار سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے تک پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ سیکنڈ میں تھوک 18 فٹ کا سفر کرتا ہے'۔
وائرسیز میں ہوا سے ہونے والی منتقلی سے وائرس پھیلنے کے خدشات زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ کورونا انسان سے انسان پھیلنے والا وائرس ہے۔
اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب لوگوں کو کھانسی ہوتی ہے تو وہ ذرات ہوا کے ذریعے کیسے سفر کرتے ہیں۔
فزکس آف فلوڈز کے محقیقین ڈبوک اور دیمیتریس ڈرکاکس نے دریافت کیا کہ 'چار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی تھوڑا سی ہوا کے ساتھ تھوک پانچ سیکنڈ میں 18 فٹ کا سفر کرتا ہے'۔
- نابالغ اور کم سن بچوں پر اثرات:
ڈرکاکیس نے کہا ہے کہ 'اس طرح تھوک اور کھانسی نا بالغوں اور کم سن بچوں دونوں پر اثر ڈالے گا۔ جس سے زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے'۔
انھوں نے بتایا ہے کہ 'تھوک ایک پیچیدہ سیال ہے۔ یہ گردوں کی راہ سے کھانسی کی شکل میں جاری ہو کر ہوا میں سفر کرتا ہے'۔
- تھوک ہوا سے گزرتا ہے؟
اس بات کا مطالعہ کرنے کے لئے کہ کس طرح تھوک ہوا سے گزرتا ہے؟ ڈوبک اور ڈرکاکس نے ایک کمپیوٹیشنل فلو ڈائنامکس انکولیشن تیار کی جو کھانسی والے شخص کے سامنے ہوا کے ذریعہ ہر تھوک کے بوند کی حالت کا جائزہ لیتی ہے۔
اس طریقہ سے تھوک اور ہوا میں ان کے تعامل کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں مائع سے بخارات اور بخارات میں تبدیل ہونے کے اثرات پر غور کیا گیا ہے۔