اترپردیش کے مغربی شہر میرٹھ میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، مغربی یوپی کے انچارج جوتیہ رادتیہ سندھیہ اور راج ببر نے اسپتال میں بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد سے ملاقات کی۔
اس کے بعد پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نوجوانوں کو کچلنا چاہتی ہے، روزگار دینے کا جو وعدہ مرکزی حکومت نے کیا تھا وہ جھوٹا ثابت ہو گیا ہے۔ اس لیے جو نوجوان غصے میں بی جے پی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، ان کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے'۔
امید کی جارہی تھی کہ پرینکا گاندھی میرٹھ کے مچھیرا ن بستی کا دورہ کریں گی جہاں آتش زدگی کے 150گھر جل کر تباہ ہو گئے تھے، لیکن پرینکا گاندھی ہاسپٹل سے دہلی چلی گئی۔
پرینکا گاندھی کے چندرشیکھرراؤ سے ملاقات کے بعد بھیم آرمی اور کانگریس کے نزدیک یہ بڑھتی نظر آرہی ہیں سیاسی حلقوں میں اس بات کی قوی امید لگائی جا رہی ہے کہ چندر شیکھر راون بہت جلد کانگریس میں شمولیت کا اعلان کرسکتے ہیں۔
چندرشیکھر راو کا کہنا ہے کہ وہ نریندر مودی کے سامنے پارلیمانی انتخابات میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ وہ مودی کی تابوت میں کیل ٹھوکنے کا کام کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ 15 مارچ کو ہونے والے بہوجن ہنکار ریلی کے ذریعے ملک بھر میں بی جے پی کا پردہ فاش کریں گے۔
پرینکا گاندھی کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے پاس آئی تو ہم نے آنکھ کھولا تو دیکھا کہ پرینکا گاندھی بیٹھی ہیں۔ انہوں نے میری طبیعت پوچھی اور ریلی کی اجازت کے بارے میں بھی دریافت کیا۔
انہوں نے سیاسی گفتگو کرنے کے بارے میں صاف طور پر منع کردیا انہوں نے کہا کہ میری بات ہوئی ہے کہ میں غیر سیاسی انسان ہوں اور دلی سماج کی آواز کو بلند کرتا ہوں۔
قابل ذکر ہے گذشتہ روز بہوجن سماج وادی پارٹی کے سپریمو مایاوتی نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد پرینکا گاندھی کی چندر شیکھر آزاد سے ملاقات کو اہم مانا جا رہا ہے۔
چندرشیکھرراؤ 2016 میں سہارنپور میں ہونے والے تشدد کے بعد سرخیوں میں آئے تھے۔ اس کے بعد وہ کافی دن جیل میں رہے۔ ان کو دلت سماج کی آواز اٹھانے کے لیے ان کو جانا جاتا ہے۔ سہارنپور فسادات کے بعد سے ہی وہ نوجوانوں خاص طور پر دلت نوجوانوں میں ان کی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔