مسٹر بینسل نے ایک اخبار کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آج کہا کہ اگر تیسرے مرحلہ کی آزمائش کے عبوری نتائج میں تاخیر ہوگی تو اگلے برس تک ویکسین کے آنے کی امید کی نہیں ہے۔
ماڈرنا نے جولائی میں 30,000رضاکاروں پر تیسرے مرحلہ کی انسانی آزمائش شروع کی تھی۔ آزمائش کے دوران پچاس فیصد رضاکاروں کو ویکسین کا ڈوز دیا گیا اور باقی رضاکاروں کو پلیسبو دیا گیا۔
کمپنی کے سی ای او مسٹر بینسل کا کہنا ہے کہ اثرات کو جانچنے والی اس کی پہلی تجزیہ رپورٹ نومبر میں آسکتی ہے لیکن یہ کب تک آئے گی یہ یقینی نہیں ہے۔ دراصل پہلی عبوری تجزیہ رپورٹ اس بنیاد پر تیار ہوتی ہے کہ پوری آزمائش کے دوران 53رضاکار علامات والے کورونا سے متاثر ہوئے یا نہیں۔ اگر ان 53لوگوں میں ویکسین لینے والے لوگوں کی تعداد پلیسبو لینے والے لوگوں سے قابل ذکر طورپر کم ہوئی تو کمپنی پھر ویکسین کی منظوری کے لئے درخواست دے گی۔
کمپنی کے سی ای او نے بتایا کہ اگر پہلے عبوری تجزیہ میں ویکسین کا اثر کافی نہیں رہا تو وہ دوسرا تجزیہ تب کرے گی جب 106رضاکار میں وائرس کی علامات نظر آئیں گی۔ اس میں دسمبر تک کا وقت لگت سکتا ہے اور اب ایسی حالت میں اگلے برس جنوری کے آخر یا فروری کے پہلے ہفتہ میں منظوری مل سکتی ہے۔
مسٹر بینسل نے بتایا کہ ویکسین محفوظ ہے یا نہیں، یہ پتہ کرنے کے لئے اسے آزمائش میں شامل کم از کم 50فیصد رضاکاروں کی حفاظت کی دو مہینہ تک نگرانی کرنا ضروری ہے اور تب ہی وہ ہنگامی استعما ل کے لئے درخواست دے سکتی ہے۔ اس کام کے بھی نومبر کے آخری ہفتہ تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اگر ماڈرنا فوری طورپر اس کے بعد درخواست دیتی ہے تو درخواست کی جانچ کرنے میں کچھ ہفتے لگیں گے اور پھر دسمبر میں فیصلہ سامنے آجائے گا۔