سرینگر (جموں و کشمیر) : والدین سے اضافی چارجز وصول کرنے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے ڈائیریکٹر اسکول ایجوکیشن تصدق احمد میر نے کہا کہ ’’دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج کا اعلان رواں ماہ کے آخر تک کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ فی الحال بارڈر زونز میں پرچوں کی جانچ کا عمل جاری ہے اور ہم اس کے انتظار میں ہے کہ اس عمل کو جلد از ا جلد مکمل کیا جائے تاکہ امتحانی نتائج کا اعلان کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی اسکولوں کی جانب سے والدین سے اضافی چارجز وصولنے کے طرز عمل کو برداشت نہیں کیا جائےگا اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈائیریکٹر اسکول ایجوکیشن نے مزید کہا کہ ’’جہاں جہاں یا جس جس اسکول سے شکایات موصول ہوتی ہیں وہاں محکمہ کارروائی عمل میں لا رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ والدین کو کہیں بھی کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔‘‘ واضح رہے کہ یکساں تعلیمی کلینڈر کے تحت سال رواں میں پہلی مرتبہ جموں وکشمیر میں مارچ سیشن شروع کیا گیا ہے جس کے تحت اول سے دسویں جماعت اور گیارہویں سے بارہویں جماعت کے امتحانات ایک ساتھ منعقد کیے گئے۔
ادھر، اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ یعنی ایس سی ای آر ٹی نے تعلیمی سیشن 2023-24 کے لیے ایک جامع نصاب (سیلیبس کم اکیڈمک کیلنڈر) ڈائزین کیا ہے جس میں بنیادی مرحلہ اور کلاس اول سے آٹھویں جماعت شامل ہیں۔ یہ نصاب این سی ای آر ٹی، نئی دہلی، کے جاری کردہ تازہ ترین رہنما خطوط اور ہدایت نامہ کے مطابق ہے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے نیشنل ایجوکیش پالیسی کے ساتھ منسلک ہے۔ جس کا مقصد روٹ لرننگ سے قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر سیکھنے کی طرف منتقل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: Hike in School Bus Fare : نجی اسکولوں کے بس فیس میں 14 فیصد کا اضافہ
جموں و کشمیر ملک کی دیگر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر اہتمام علاقوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس طرح کی جامع دستاویز بنانے والا پہلا مرکز کے زیر انتظام علاقہ بن گیا ہے۔ اس نصاب کا مقصد جموں و کشمیر میں تعلیم کے معیار کو بڑھانا ہے اور توجہ کو روٹ لرننگ سے قابلیت پر مبنی اور تجرباتی سیکھنے کی طرف منتقل کرنا ہے۔