بڈگام: وسطی کشمیر کے بیروہ، بڈگام میں قائم سکھ ناگ بس اسٹینڈ کی منتقلی کے خلاف مقامی دکانداروں نے ایس ڈی ایم آفس کے باہر احتجاج مظاہرہ کرتے ہوئے بس اسٹینڈ کی منتقلی کے احکامات پر روک لگانے ک مطالبہ کیا۔ بس اسٹینڈ سوکھ ناگ کی منتقلی چند روز قبل ڈی سی بڈگام کے ایک حکم نامے کے تحت انجام دی گئی جس کے مطابق سوکھ ناگ بس اسٹینڈ کو ایور گرین سومو اینڈ ٹیکسی اسٹینڈ سے سروس شروع کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ Bus Stand SukhNag Shifted Local Shopkeepers Protest
بس اسٹینڈ کی منتقلی کے بعد یہاں کے مقامی دکانداروں نے ضلع انتظامیہ کے مختلف افسران سے ملاقات کی اور انہیں بس اسٹینڈ کی منتقلی پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ بیروہ کے باشندوں نے جمعرات کو ایس ڈی ایم آفس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اس حکمنامہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں کے مطابق بس اسٹینڈ کی منتقلی سے سینکڑوں دکاندار بے روزگار ہو جائیں گے۔ Sukhnag Bus Stand Shopkeepers Protest
ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرین نے کہا: ’’لوگوں کے ساتھ کیے گئے وعدے ہر نئے روز چھوٹے دعوے ثابت ہو رہے ہیں۔‘‘ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ ’’یو ٹی اور مرکزی حکومت لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے برعکس انکے نان شبینہ پر شب خون مارنے کے درپے ہے۔‘‘ احتجاج کر رہے دکانداروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مختلف بینکوں سے سود پر قرضہ یا غیر منقولہ جائیداد فروخت کرکے کاروبار شروع کیا تھا جو بس اسٹینڈ کی منتقلی سے مکمل چوپٹ ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: Protest in Budgam بجلی کی آنکھ مچولی کے خلاف بڈگام میں احتجاج
احتجاج میں شامل ایک معمر شہری نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’’ہم پانچ سو سے زائد دکاندار اس بس اسٹینڈ کے آس پاس موجود اپنا چھوٹا موٹا کاروبار انجام دیے رہے ہیں، جو اس اسٹینڈ کی منتقلی کی وجہ سے پوری طرح بے روزگار ہو گئے۔ جب سے یہ بس اسٹینڈ کی منتقلی عمل میں لائی گئی تب سے ہم نے ایک پیسہ بھی نہیں کمایا ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ بیروہ قصبہ میں تین بس اسٹینڈ موجود ہیں، تاہم ان میں سے سب سے بڑے بس اسٹینڈ کو اسی سال اپ گریڈ کیا گیا۔ اس کی میکڈمائزیشن کی گئی اور بیت الخلاء سمیت دیگر بنیادی سہولیات میسر رکھی گئیں۔ علاوہ ازیں چھوٹے بس اسٹینڈ میں عوام کے لئے ایک جدید طرز کا کمیونٹی ہال بنانے کا انتظامیہ کا منصوبہ ہے۔