ممبئی: ممبئی کے گرانٹ روڈ علاقہ میں موجود اولڈ ٹمبر مارکیٹ یعنی لکڑا بازار میں رواں برس ماہ جنوری میں آگ کی واردات پیش آئی تھی۔ چار مہینے بعد جب یہاں کے کاروباریوں نے اپنی دوکانیں جوں کا توں بنانی چاہی تو محکمۂ بی ایم سی نے نوٹس جاری کر دیا۔ کاروباریوں کو اس سے پہلے کہ نوٹس کے خلاف کورٹ جاتے، بی ایم سی نے نوٹس دینے کے محض کچھ گھنٹوں میں ہی یہاں انہدامی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان ساری دوکانوں کو زمین دوز کر دیا جو نذر آتش ہوئی تھیں۔ اب یہاں کے کاروباری اور دوکاندار پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
دو ٹانکی علاقہ میں آتِشزدگی کے سبب دس کروڑ سے بھی زیادہ کا نقصان
بی ایم سی کے ذریعہ ہونے والی اس کارروائی کے بعد دوکاندار کشمکش میں مبتلا ہیں اور اب یہاں پر لگنے والی آگ کو لیکر بھی طرح طرح کے سوال اٹھنے لگے ہیں اور قیاس لگائے جا رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جگہ پارسی ٹرسٹ کی ہے جس کو بلڈر اسے ڈیولپ کرنا چاہتا ہے۔ جس دن آگ لگی تھی اس دوران بلڈر کے کچھ لوگ یہاں خود کو بی ایم سی کا افسر بتا کر سروے کر رہے تھے۔ اسی دن آگ لگی۔ جس کے بعد تقریباً 100 کروڑ کا نقصان بتایا جا رہا ہے۔ جب کہ اس حادثہ میں ایک شخص کی موت بھی ہو گئی ہے۔
یہاں 60 دوکانیں ہیں اور یہ دوکانیں 10000 اسکوائر فٹ کے اس احاطہ میں موجود ہیں۔ چونکہ دوکانوں کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو ان ہی دوکانوں پر کام کرتے ہیں اور یہیں سوتے بھی ہیں۔ اس طرح سے 400 فیملی کی روزی روٹی اس بازار پر منحصر ہے۔ حالانکہ حالات حسب معمول ہونے میں کچھ وقت ضرور لگتا لیکن بی ایم سی کی کارروائی کے بعد اب حالات پہلے سے بدتر ہو چکے ہیں۔