بنگلورو: کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچانے والے بیانات دئے ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچانے والے بیانات دیے۔ اس لئے ان کے خلاف کارروائی کی مانگ کی جاتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندہی کے خلاف یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے ہاسن سے جے ڈی ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ پراجول ریونّا پر بھی تنقید کی، جن پر خواتین کا جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔
آل انڈیا دلت ایکشن کمیٹی کی قومی صدر چینا رامو اور قومی خواتین یونٹ کی صدر سشیلا دیوراج نے ایک پی آئی ایل دائر کی ہے، جس کی سماعت ابھی باقی ہے۔ اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاستی محکمہ داخلہ اور ریاستی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کی جائے کہ وہ راہل گاندھی کو نفرت انگیز تقریر کے ذریعے خواتین کے وقار کی توہین کرنے اور آئین اور ہندوستانی خواتین کو فراہم کردہ آئینی تحفظات کی خلاف ورزی سے روکیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ راہل گانھی نے جو بیانات دئے ان پر راہل کو بغیر کسی شرط کے معافی مانگنا چاہئے اور ایسا کوئی بیان نہیں دینا چاہئے جس سے کسی بھی خاتون کے وقار کو ٹھیس پہنچے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے الفاظ کا استعمال کیا ہے جو غلط ہے۔
لوک سبھا انتخابات کا پس منظر:
2 مئی 2024 کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی، جو شیموگہ (کرناٹک) میں انتخابی مہم چلا رہے تھے، جے ڈی ایس کے امیدوار پراجول ریونّا کا موضوع اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ریونّا نے 400 خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کی اور پھر اس واقعہ کی ویڈیو بنائی۔ ایسے امیدوار کے حق میں ووٹ مانگنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی عوام کے معافی مانگنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: