سرینگر:صوبائی کمشنر کشمیر وجے کمار بدھوری نے کہا کہ جموں وکشمیر میں آئندہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے کرائے جائے گے اور توقع ہے کہ ان انتخابات میں لوگ بڑھ چڑھ کر شرکت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر انتظامیہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لوگوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی وعدہ بند ہے۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
ان باتوں کا اظہار صوبائی کمشنر نے ہفتے کو سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر کیا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے تمام تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے اور انتظامیہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کشمیر کا دورہ کیا اور انتظامیہ نے تیاریوں سے متعلق ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ٹیم تیاریوں سے مطمئین ہے اور جب انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا تو انتخابات کو پُر امن اور احسن طریقے سے آزادانہ طور منعقد کرائے گے۔
ایک سوال کے جواب میں بدھوری نے کہاکہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سحری اور افطار کے وقت بجلی کی مناسب فراہمی کو یقینی بنانے کی خاطر عملی اقدامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر میں بجلی کا نظام کافی حد تک بہتر ہوا ہے اور یہ کہ موجودہ انتظامیہ لوگوں کو چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کے وعدے پر کاربند ہے۔
صوبائی کمشنر کا کہنا تھا کہ لوگوں کے مسائل حل کرنے اور انہیں سبھی سہولیات میسر رکھنے کی خاطر انتظامیہ کوشاں ہے ۔ان کے مطابق رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے پیش نظر کشمیر میں سحری اور افطار کے وقت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں:جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کیوں نہیں، کمیشن کی وضاحت
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے عام انتخابات 2024 کا اعلان کیا ہے۔ اس بار کے انتخابات بھی سات مرحلوں میں ہوں گے۔ پہلا مرحلہ 19 اپریل کو شروع ہوگا اور تمام سات مرحلوں کی ووٹنگ کے بعد 4 جون کو انتخابی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر میں بیک وقت لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات لوک سبھا کے ساتھ اسلئے نہیں کرائے جارہے ہیں کیونکہ تنظیم نو ایکٹ میں ضروری ترمیم تاخیر سے ہوئی ہے جس کے تحت سیٹیوں کی تعداد اور تخصیص بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سیاسی جماعتیں اسمبلی انتخابات منعقد کرانے پر مصر تھیں، تاہم انتظامیہ کے ذمہ دار اس کے مخالف تھے، کیونکہ ان کے مطابق کم و بیش ایک ہزار امیدواروں کو سکیورٹی فراہم کرنا مشکل کام ہے۔