سرینگر : مارچ 2021 کے بعد پہلی بار، دہلی ہائی کورٹ نے 70 وکلاء کو سینئر ایڈوکیٹ کے طور پر نامزد کیا ہے۔ ایک مکمل اسکریننگ کے عمل کے بعد جس میں 300 سے زیادہ درخواست دہندگان کے انٹرویوز شامل تھے، یہ اعلان کیا گیا۔ 2021 میں ہائی کورٹ نے 55 وکلاء کو باوقار عہدہ دیا تھا۔
تنویر احمد میر، ایک مشہور فوجداری وکیل ہیں، جن کی پرورش سرینگر میں ہوئی اور ان کا تعلق جموں و کشمیر کے کپواڑہ علاقہ کے لنگیٹ سے ہیں۔ تنویر احمد میر ان 70 وکلا میں شامل ہیں جنہیں سینئر ایڈوکیٹ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، بھارت کے قانونی نظام میں میر کی شاندار شراکت داری نے انہیں دہلی ہائی کورٹ میں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے جبکہ وہ یہ عہدہ حاصل کرنے والے پہلے کشمیری ہیں۔
سرینگر کے برن ہال اسکول کے سابق طالب علم میر نے 1998 میں دہلی یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اپنے 28 سالہ کیریئر میں انہوں نے سپریم کورٹ آف انڈیا، دہلی ہائی کورٹ اور متعدد ٹرائل کورٹس میں پریکٹس کی۔ انہیں کئی ہائی پروفائل کیسوں میں اپنے مؤکلوں کا دفاع کرنے کےلئے جانا جاتا ہے، جن میں آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر گھوٹالہ، 2G اسپیکٹرم کیس، آروشی تلوار قتل کیس، رابرٹ واڈرا اور اندرانی مکھرجی مقدمات شامل ہیں، وہیں مشہور صنعت کار نوین جندال کے کیس سے میر کو ملکی اور غیرملکی شہرت حاصل ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: Sharjeel Imam Bail Plea In Sedition Case: شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر آج فیصلہ
میر، جندال گلوبل یونیورسٹی میں فوجداری قانون اور پریکٹس کے معاون پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہوئے قانونی پیشہ ور تعلیم کے خواہشمندوں کی بہترین سرپرستی کررہے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن ہونے کے علاوہ میر کو 1998 میں دہلی بار کونسل میں بھی شامل کیا گیا۔