اننت ناگ (جموں کشمیر) : ضلع اننت ناگ کے براہ رانی پورہ سے تعلق رکھنے والے ثاقب راجا خان نامی ایک شہری نے اپنے آبائی علاقہ میں بایو ڈگریڈیبل صنعتی یونٹ کا قیام عمل میں لایا ہے۔ ثاقب کا دعوی ہے کہ ان کا کارخانہ جموں کشمیر میں ہی نہیں بلکہ شمالی بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا کارخانہ ہے جہاں ماحول دوست بایو ڈگریڈیبل اور کمپوسٹیبل لفافے (تھیلے، کیری بیگس) تیار کئے جاتے ہیں۔
ثاقب کے مطابق ان کی فیکٹری میں جو تھیلے تیار کئے جاتے ہیں وہ صد فیصد بایو ڈگریڈیبل اور کمپوسٹیبل ہیں،کیونکہ لفافہ تیار کرنے میں مکئی، آلو اور شوگر کین اسٹارچ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لفافہ کافی مضبوط ہے جو موزوں وزن اٹھا سکتا ہے، اور یہ زمین پر گرنے کے بعد کچھ وقت بعد خود بہ خود مٹی میں مل کر نہ صرف ختم ہو جاتا ہے بلکہ یہ کھاد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہیں جلانے سے اس کا کوڑا راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے جو مٹی میں مل کر کمپوسٹ کا کام دے سکتا ہے۔
ثاقب کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کو پالیتھین اور پلاسٹک سے پاک کرانا ان کا ایک خواب ہے، کیونکہ مکمل پابندی ہونے کے باوجود یہاں پالتھین کا بے تحاشا استعمال ہو رہا ہے،جس سے نہ صرف وادی کشمیر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے یہاں کے سر سبز جنگلات، زرعی اراضی اور آبی ذخائر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ثاقب کا مزید کہنا ہے کہ کوششوں کے باوجود سرکار پالی تھین کے استعمال کو روکنے میں اس وجہ سے بھی ناکام ہو رہی ہے کیونکہ یہاں پر اس کا متبادل موجود نہیں تھا۔
ثاقب راجا خان انجینئرنگ گریجویٹ ہیں، انہوں نے ایک نجی ادارے میں کئی برس تک کام کیا، بعد میں انہوں نے نوکری ترک کر اپنا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ ثاقب کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی بھارت میں نوکری کرکے کافی وقت گزارا، جہاں پر وہ بایو ڈگریڈیبل اور کمپوسٹیبل کیری بیگس کے عام استعمال کو دیکھ کر کافی متاثر ہوئے، جس کے بعد وہ اس کاروبار کی جانب مائل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صنعتی یونٹ کو قائم کرنے کے لئے انہیں سات برس کا طویل وقت لگا، رقم جمع کرنے کے لئے انہیں کافی مشقت کرنا پڑی اور آخر کار وہ یہ یونٹ کو قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے ثاقب نے کہا کہ اس کاروبار کے ساتھ ان کا جنون اور جذبہ جڑا ہوا ہے وہ اس یونٹ کو نہ صرف روزگار کے وسیلہ کے طور پر آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں بلکہ اس سے تیار کئے جانے والا پروڈکٹ وادی سے زہر آلود پالتھین کے مکمل خاتمے کا بھی وسیلہ بنے۔ انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ بایو ڈگریڈیبل اور کمپوسٹیبل لفافے کے استعمال کو عملانے اور اسے فروغ دینے میں اقدامات اٹھائیں۔
ثاقب کے کارخانے میں اس وقت سات نوجوان روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ ثاقب کا دعویٰ ہے کہ مارکیٹ میں ان کے پروڈکٹ کی مانگ بڑھ رہی ہے، لہذا وہ مسقبل میں اس کاروبار کو مزید وسعت دیں گے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرسکیں۔